(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کے علاقے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اونروا) کے زیر انتظام ہیلتھ سینٹر پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے حملے کے نتیجے میں 9 بچوں سمیت 19 فلسطینی شہید ہوگئے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی (وفا) کے مطابق، "غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے طیاروں نے جبالیہ کیمپ میں اونروا کے ایک کلینک پر بمباری کی، جہاں بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے۔ اس حملے میں 19 شہری شہید ہو گئے، جن میں 9 معصوم بچے بھی شامل ہیں، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے اور عمارت میں شدید آتشزدگی پھیل گئی۔”
ایجنسی کے مطابق، "ہیتھ سینٹر سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں شہداء کی جلی ہوئی اور ٹکڑوں میں بٹی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں، جن کی شناخت مشکل ہو گئی ہے، جبکہ بمباری کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔”۔
اسرائیلی وزیر برائے سیکیورٹی یسرائیل کاٹز نے آج (بدھ) اعلان کیا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے غزہ میں زمینی حملے کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور وہ بڑے پیمانے پر علاقے پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ اعلان 18 ماہ سے جاری فلسطینی نسل کشی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
اپنے بیان میں کاٹز نے کہا کہ "لڑائی کے علاقوں سے بڑے پیمانے پر شہریوں کو بے دخل کیا جائے گا” اور غزہ کے عوام سے مطالبہ کیا کہ "حماس کو ختم کر دیا جائے اور اسرائیلی قیدیوں کو واپس لایا جائے”، کیونکہ بقول اس کے "یہی جنگ ختم کرنے کا واحد طریقہ ہے۔” تاہم، کاٹز نے ان علاقوں کی حد بندی واضح نہیں کی جن پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل قبضہ کرنا چاہتی ہے۔