(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) آج صبح غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے ڈرون حملے میں رفح کے مشرقی علاقوں میں پولیس کے زیر نگرانی امدادی کمیٹیوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 4 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔
عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق، کم از کم 3 شہداء کو نکالا گیا، جب کہ 4 دیگر زخمی ہوئے، جن میں بعض کی حالت نازک ہے۔ یہ حملہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے ایک امدادی تحفظ ٹیم پر کیا گیا۔ ایک علیحدہ واقعے میں، عماد حمدی الشاعر شہید ہو گئے، جب غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے ڈرون نے رفح کے مشرقی علاقے الشوکہ پر بمباری کی۔
وزارت داخلہ اور قومی سلامتی نے اعلان کیا کہ "پولیس کے دو اہلکار شہید اور ایک شدید زخمی ہوا جب غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے حملے نے انہیں اس وقت نشانہ بنایا جب وہ رفح کے مشرقی علاقے الشوکہ میں امدادی سامان کی حفاظت کے لیے تعینات تھے۔” وزارت نے اس "جرم” کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک مختصر بیان میں عالمی برادری اور ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ پولیس کو نشانہ بنانے سے باز رہے، کیونکہ یہ ایک سول ادارہ ہے جو شہریوں کے تحفظ اور ان کے روزمرہ کے معاملات کو منظم کرنے کے لیے خدمات فراہم کرتا ہے۔
پولیس اہلکاروں پر حملے کے بعد، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی حملے میں جنوبی غزہ میں "کچھ مسلح افراد” کو نشانہ بنایا گیا، جو اس کی افواج کی طرف بڑھ رہے تھے۔ فوج کے مطابق، "ہدف بنائے گئے افراد کی شناخت کر لی گئی ہے”۔ اس کے ساتھ ہی، قابض فوج نے غزہ کے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ علاقے میں تعینات فوجیوں کے قریب نہ جائیں۔
19 جنوری کو جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد سے، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے حملوں اور براہ راست فائرنگ سے درجنوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جو کہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ 11 فروری کو، غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے اعلان کیا کہ جنگ بندی کے آغاز سے اب تک 118 فلسطینی شہید اور 822 زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو ٹیموں نے 641 شہداء کی لاشیں نکالی ہیں، جن میں سے 197 کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔