(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ تنظیم کی قیادت کے ایک وفد نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے لیے خصوصی مندوب اور نائب وزیر خارجہ میخائل بوغدانوف سے ملاقات کی۔
بیان میں وضاحت کی کہ جنگ بندی مذاکرات کی تازہ ترین پیش رفت، معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں، اور ان رکاوٹوں پر تبادلہ خیال کیا گیا جو اس پر عمل درآمد میں تاخیر کا باعث بن رہی ہیں، جن میں انسانی ہمدردی کے پروٹوکول کے نفاذ میں تاخیری حربے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے جرائم اور پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال، مغربی کنارے میں منظم تباہی، اور مقدس مقامات کی بے حرمتی پر بھی غور کیا گیا۔
حماس کے وفد نے اس بات کی تصدیق کی کہ تحریک جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اسے مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی تمام شقوں اور مراحل پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، حماس نے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت میں روس کے کردار کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
تحریک نے اس امر پر زور دیا کہ غزہ کے شہریوں کی فوری انسانی ضروریات کو پورا کرنا ناگزیر ہے اور روس کا کردار اس حوالے سے اہم ہے تاکہ کسی بھی ایسی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے جو محاصرے یا جبری ہجرت کے ذریعے ایک نیا حقیقت مسلط کرنے کی کوشش کرے۔