• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 12 فروری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

برطانوی کارکنان کے خلاف اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی پر حملے کا مقدمہ

"فلسطین ایکشن” کے برطانوی کارکنان پر اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی پر حملے کا مقدمہ

جمعرات 20-11-2025
in خاص خبریں, صیہونیزم, عالمی خبریں
0
برطانوی کارکنان کے خلاف اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی پر حملے کا مقدمہ
0
SHARES
7
VIEWS

روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ

برطانیہ میں فلسطینی عوام پر قابض اسرائیلی مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والی”فلسطین ایکشن” تنظیم کے چھ برطانوی کارکنوں پر قابض صہیونی ریاست کی ایک کمپنی پر حملے کے الزام میں مقدمہ کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔

اس مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ایسے کارخانے پر حملہ کیا جو ایک اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی چلاتی ہے۔ اس کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے دو برس کے دوران غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی جاری نسل کشی کے لئے اسلحہ فراہم کیا۔

گذشتہ منگل کو برطانوی شہریوں نے وولویچ کراؤن کورٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جو ملزمان کے مقدمے کے آغاز کے ساتھ ہی کیا گیا۔

یہ حملہ گذشتہ اگست میں جنوبی مغربی انگلینڈ کے شہر بریسٹول میں کمپنی ’ایلبٹ سسٹمز‘ کے کارخانے پر کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی برطانیہ بھر میں قابض اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی اور برطانوی حکومت کی جانب سے قابض اسرائیل کو مسلسل اسلحے کی فراہمی کے خلاف بھڑک اٹھنے والے عوامی احتجاج کا حصہ تھی۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ چھوں ملزمان اُن کارکنوں میں شامل ہیں جو اس وقت پابندی کی زد میں آنے والی تنظیم فلسطین ایکشن سے تعلق رکھتے ہیں اور جنہوں نے جنوبی مغربی انگلینڈ میں واقع اس فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔

سرکاری وکیل ڈیانا ہیر نے کہا کہ ملزمان کا ارادہ تھا کہ وہ املاک کو بھاری نقصان پہنچائیں اور ایسے کسی بھی شخص کے خلاف غیر قانونی طاقت استعمال کریں یا اس کی دھمکی دیں جو ان کے راستے میں آئے۔ ان کے بقول ضرورت پڑنے پر بھاری ہتھوڑوں سمیت اسلحے کے استعمال کا بھی منصوبہ تھا۔

اگرچہ یہ کارروائی اسلحہ فراہمی کے ذریعے جاری نسل کشی کے خلاف عوامی احتجاج کا حصہ تھی لیکن ہیر نے دعویٰ کیا کہ ’’اس عمارت کو ہدف بنانے کی مکمل منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ حملے میں شریک افراد کی نشاندہی، مرحلہ وار عملی منصوبہ بندی اور اس پر باہمی اتفاق بھی ہوا‘‘۔

شارلوٹ ہیڈ (عمر29 سال)، سامویل کورنر (عمر23 سال)، لیونا کامیو (عمر 20 سال)، فاطمہ زینب رجوانی (عمر 21 سال)، زوئی روجرز (عمر 22 سال) اور جوردان ڈیولن (عمر 31 سال) نے پرتشدد ڈکیتی، پرتشدد ہنگامہ آرائی اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

برطانیہ نے جولائی میں فلسطین ایکشن کو ایک ممنوعہ اور دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔ یہ پابندی واقعۂ اَلبِٹ کے تقریباً ایک سال بعد عائد کی گئی جس کے بعد اس تنظیم سے وابستگی کو جرم بنا دیا گیا۔ اس فیصلے نے برطانوی سڑکوں پر حکومتی پالیسی کے خلاف عوامی احتجاج کو جنم دیا۔

جج جیرمی جونسن نے جیوری کو بتایا کہ اس فیصلے اور اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں بحث جاری ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ اس بحث کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ غزہ میں جاری نسل کشی کے بارے میں انتہائی شدید رائے رکھتے ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک قابض اسرائیل اپنے اقدامات میں حق بجانب تھا جبکہ دوسرے لوگ اسے غیر قانونی یا حتیٰ کہ نسل کشی کے مترادف اقدامات قرار دیتے ہیں۔

Tags: Free PalestineGaza under attackHuman rights violationIsraeli aggressionWar crimes in Gazaاسرائیلی قبضہعالمی یکجہتیغزہ میں نسل کشیفلسطینی مزاحمتمسجد اقصیٰ
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.