(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے عبرانی اخبار یدیعوت احرنوت میں شائع ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی تاریخ کے سب سے مشکل دور میں، جب وہ 7 اکتوبر کے بعد شدید بحران اور ناکامیوں سے دوچار ہے، فوج کے نئے سربراہ ایال ضمیر کی تعیناتی پر اندرونی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق، سیال ضمیر کی تقرری جلد بازی میں کی گئی اور وہ اس عہدے کے لیے قابلِ بھروسہ نہیں سمجھے جا رہے۔
رپورٹ کے مطابق کئی سینئر فوجی حکام کا ماننا ہے کہ اس وقت جبکہ غیر قانونی صیہونی ریاست کو کئی محاذوں پر ناکامی کا سامنا ہے، ایک زیادہ تجربہ کار اور مستند شخصیت کو فوج کی قیادت سنبھالنی چاہیے تھی۔
نئے چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے اپنے عہدے کا چارج ایسے وقت میں سنبھالا ہے جب غیر قانونی صیہونی ریاست کو غزہ، لبنان، یمن اور ایران میں شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج کے سبکدوش ہونے والے سربراہ ہلیوی کو قبل از وقت عہدے سے ہٹانا ایک غیرمعمولی فیصلہ ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست کے اندرونی بحران مزید شدت اختیار کر رہے ہیں۔
فوج کے اندر اختلافات اور عدم اعتماد
غیر قانونی صیہونی ریاست کے عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ضمیر کی قیادت میں فوج کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا: "یہ ایک ایسے وقت میں غیرمعمولی فیصلہ ہے جب ہمیں انتہائی تجربہ کار اور مستحکم قیادت کی ضرورت تھی۔ سیال ضمیر کا فوجی ریکارڈ اتنا متاثر کن نہیں کہ وہ اس بحران میں فوج کے سربراہ کے طور پر سنبھال سکیں۔”
کئی اسرائیلی تجزیہ کاروں کا بھی ماننا ہے کہ نیتن یاہو حکومت نے داخلی سیاسی دباؤ کے تحت یہ فیصلہ کیا اور ضمیر کو تیزی سے عہدہ سونپنے کی ایک بڑی وجہ حکومت اور فوج کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔
7 اکتوبر کی ناکامی اور موجودہ چیلنجز
ایال ضمیر نے منصب سنبھالتے ہی اپنے خطاب میں کہا کہ "7 اکتوبر کی صبح، غیر قانونی صیہونی ریاست کی فوج ناکام رہی، سرحدیں توڑ دی گئیں، اور دشمن ہمارے قصبوں میں داخل ہو گئے”۔ تاہم، ان کے اس بیان نے عسکری حلقوں میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے، کیونکہ یہ واضح اشارہ ہے کہ اسرائیلی فوج اندرونی خلفشار اور بدانتظامی کا شکار ہے۔
ضمیر نے مزید کہا کہ "یہ ایک وجودی جنگ ہے اور ہمیں اپنے فوجی بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا”۔ ان کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کو اپنی دفاعی صلاحیتوں پر خود بھی اعتماد نہیں رہا اور وہ جنگی تیاریوں کے لیے مزید وسائل اور افرادی قوت حاصل کرنے کے لیے سرگرداں ہے۔
نتائج اور ممکنہ خطرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ضمیر کی تعیناتی نیتن یاہو حکومت کے لیے ایک نیا بحران کھڑا کر سکتی ہے۔ سینئر عسکری ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر ضمیر کی قیادت میں فوج مزید ناکام رہی، تو اسرائیلی عوام اور سیاسی حلقوں میں نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بےچینی مزید بڑھے گی۔
اسرائیلی میڈیا میں بھی اس تعیناتی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تقرری حکومت کے کمزور دفاعی پالیسیوں اور فوج کے اندرونی خلفشار کا نتیجہ ہے۔ جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ ضمیر کو محض نیتن یاہو کے سیاسی مفادات کے تحت آگے لایا گیا ہے، اور وہ حقیقت میں اس بحران سے نکلنے کے لیے کوئی قابل ذکر حکمتِ عملی نہیں رکھتے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اپنی تاریخ کے سب سے خطرناک اور غیر مستحکم دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں ایک کمزور اور متنازعہ فوجی سربراہ کی تعیناتی نہ صرف اسرائیلی فوج کی کارکردگی کو مزید متاثر کر سکتی ہے، بلکہ خطے میں جاری جنگی صورتحال کو بھی مزید بھڑکا سکتی ہے۔ عسکری حلقوں میں بڑھتی ہوئی بےچینی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا، اور اس کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔