L(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) امریکی ایوانِ نمائندگان کے 145 ڈیموکریٹک ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خط بھیجا ہے، جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ان "خطرناک” بیانات سے دستبردار ہوں اور ان کو واپس لیں، جن میں انہوں نے غزہ پر امریکہ کے قبضے کا منصوبہ ظاہر کیا تھا۔
امریکی ویب سائٹ "ایکسئوس” نے جمعرات کو اس خط کی تفصیلات شائع کرتے ہوئے بتایا کہ اس پر دستخط کرنے والے ارکان کی تعداد ایوان میں موجود 215 ڈیموکریٹک ارکان کا تقریباً دو تہائی بنتی ہے۔
اس خط میں ارکانِ کانگریس نے صدر ٹرمپ کے اس بیان پر گہرے صدمے اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے، جس میں انہوں نے 23 لاکھ فلسطینیوں کو مستقل طور پر غزہ سے بے دخل کرنے کی حمایت کی تھی۔ خط پر دستخط کرنے والے ارکان، جو مجموعی طور پر 435 رکنی ایوان کا ایک تہائی حصہ بنتے ہیں، نے خبردار کیا کہ یہ اقدام "نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ اس سے امریکہ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچے گا، امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈالے گا، اور دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ کرے گا۔”
ارکانِ کانگریس نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کا یہ اقدام امریکہ کے عرب اتحادیوں کے ساتھ غزہ کی دوبارہ تعمیر اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ کسی پُرامن حل کے امکانات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ خط پر دستخطی مہم کی قیادت ایلی نوائے سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس شون کاسٹن اور کیلیفورنیا سے براد شرمین نے کی۔
ابتدائی طور پر عالمی سطح پر یہ امید تھی کہ صدر ٹرمپ کی کوششوں سے 19 جنوری 2025 کو ہونے والی جنگ بندی، جو قیدیوں کے تبادلے پر مشتمل تھی، کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے باضابطہ طور پر اپنا عہدہ سنبھالا، انہوں نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے حق میں مکمل جھکاؤ اختیار کیا، جس سے یہ امیدیں مایوسی میں بدل گئیں۔
ویٹیکن کا ٹرمپ کے منصوبے پر سخت ردعمل
ویٹیکن نے بھی صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کی مذمت کی ہے، جس میں غزہ کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے اور ان کی زمین پر قبضے کی بات کی گئی تھی۔ ویٹیکن کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کارڈینل پیٹرو پارولین نے اردن میں ایک چرچ کی افتتاحی تقریب کے دوران کہا، "فلسطینیوں کو اپنی زمین پر رہنے کا حق حاصل ہے، اور انہیں ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔”
عالمی سطح پر ٹرمپ کے بیان کی مخالفت
صدر ٹرمپ نے 4 فروری 2025 کو غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ امریکہ غزہ پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور فلسطینیوں کو مصر اور اردن منتقل کیا جائے گا۔ اس بیان کو فلسطین، عرب ممالک اور عالمی برادری نے سختی سے مسترد کر دیا۔
امریکی کانگریس کے بعض ریپبلکن ارکان نے بھی اس منصوبے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابلِ عمل ہے اور صدر ٹرمپ کی غیر ملکی جنگوں میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی سے متصادم ہے۔
7 اکتوبر سے جاری غزہ کی نسل کشی
امریکہ کی مکمل حمایت کے ساتھ، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں نسل کشی کا آغاز کیا، جس میں اب تک 1 لاکھ 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ مزید 14 ہزار سے زائد فلسطینی لاپتہ ہیں، جن میں سے بیشتر ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
19 جنوری 2025 کو حماس اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ہوا، جس کی پہلی مدت 42 دن پر مشتمل ہے۔ اس دوران مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی میں فریقین کے درمیان مزید مذاکرات ہوں گے تاکہ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں مکمل جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔