اقوام متحدہ: غزہ میں انسانی عملے کو بلا تعطل امداد کی اجازت دی جائے
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجاریک نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمیں قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ میں فوجی کارروائیوں کو ممکنہ طور پر توسیع دینے کے اعلان پر شدید تشویش ہے۔
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اقوام متحدہ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے عملے کو بڑے پیمانے پر امداد پہنچانے کی اجازت دی جائے تاکہ محصور عوام کو زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کی جا سکیں۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجاریک نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمیں قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ میں فوجی کارروائیوں کو ممکنہ طور پر توسیع دینے کے اعلان پر شدید تشویش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل کے مسلط کردہ قحط کے باعث مزید شہادتوں کو روکنے کے لیے یہ لازمی ہے کہ انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے کارکنوں کو بڑے پیمانے پر اور مسلسل بنیادوں پر خوراک پہنچانے کی اجازت دی جائے۔
ڈوجاریک نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ غزہ کی ایک اشاریہ دو ملین آبادی میں سے نصف تعداد بچوں پر مشتمل ہے اور ان تک امداد پہنچانے کے لیے تمام راستے اور سرحدی گزرگاہیں کھلی ہونی چاہئیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قابض فوج نے غزہ شہر پر مکمل حملہ کیا تو اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ایک بار پھر جنوبی غزہ کے پہلے سے ہی گنجان آباد علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ جنوبی غزہ کا علاقہ پہلے ہی بنیادی ڈھانچے اور سہولیات سے محروم ہے جہاں نہ تو مناسب خوراک دستیاب ہے، نہ پینے کا صاف پانی اور نہ ہی طبی سہولیات موجود ہیں۔