(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیلی غیر قانونی ریاست نے آج منگل کی صبح غزہ کی سرحد رفح بارڈر کو دوبارہ بند کر دیا، جس کے باعث غزہ کے ہزاروں بیمار اور زخمی افراد کے باہر جانے کا راستہ روک دیا گیا۔ عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اسرائیل نے رفح بارڈر کے فلسطینی عملے کو اچانک اطلاع دی کہ کراسنگ کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے یورپی یونین کے سرحدی معاونت مشن کو بھی آگاہ کیا گیا۔
عبرانی ذرائع کے مطابق، رفح بارڈر کو قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے معاہدے کے تحت کھولا گیا تھا، جس کے تحت زخمیوں اور مریضوں کو غزہ سے باہر لے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
آج منگل کی صبح، اسرائیلی غیر قانونی ریاست نے اچانک غزہ پر وحشیانہ حملے دوبارہ شروع کر دیے، جس میں پورے علاقے کو نشانہ بنایا گیا، اور خاص طور پر سحری کے وقت عام شہریوں پر بمباری کی گئی۔ یہ حملہ جنوری میں قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی سے طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، آج صبح کے حملوں میں 326 فلسطینی شہید اور 440 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں سے متعدد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ وزارت نے بیان میں مزید کہا کہ کئی شہداء اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جنہیں نکالنے کا کام جاری ہے۔
اسی دوران، غزہ کے حکومتی میڈیا آفس نے بھی ایک بیان جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ صرف پانچ گھنٹوں کے دوران اسرائیلی غیر قانونی ریاست کی بمباری سے 322 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں کئی مکمل خاندان بھی شامل ہیں۔