(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے غزہ پر اپنی جارحیت میں شدت لاتے ہوئے "العملیہ الکبریٰ” کے نام سے ایک نئی منصوبہ بندی تیار کی ہے، جس کا مقصد حماس کو دباؤ میں لا کر یا تو مکمل ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے یا جزوی معاہدے پر راضی کرنا ہے۔
اس منصوبے میں شمال، جنوب اور وسطی غزہ سے تمام شہریوں کی جبری منتقلی اور انہیں ایک چھوٹی انسانی زون "المواصی” میں محدود کرنے کا تصور شامل ہے۔
صیہونی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس جارحیت کے نتیجے میں اگر یرغمال اسرائیلی حملوں میں مارے جاتے ہیں تو بھی کارروائی جاری رہے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل، حماس کے تمام رہنماؤں کو جلا وطن کرنا، ان کا اسلحہ ضبط کرنا اور غزہ میں حکمرانی سے محروم کرنا چاہتی ہے۔
دوسری جانب صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے عسکری مشاورت کے بغیر ہی موراغ کوریڈور پر قبضے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جب کہ رفح اور دیگر علاقوں سے لوگوں کی بڑے پیمانے پر جبری نقل مکانی جاری ہے۔