بیروت ۔ روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ
قابض اسرائیلی جنگی طیاروں نے فجر کے وقت جنوبی لبنان کی دو بلدات پر بمباری کی، جس سے لبنان اور قابض اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ایک بار پھر سامنے آگئی ہے۔
لبنانی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق قابض جنگی طیاروں نے نبطیہ گورنری کی بلدہ عیترون کے علاقے الخانوق پر دو میزائل داغے، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بمباری کے پندرہ سے تیس منٹ بعد قابض فضائیہ نے صور ضلع کی بلدہ طرفلسیہ کے مغربی اطراف پر بھی حملہ کیا، اور پھر اسی علاقے کو دو مختلف مرحلوں میں دوبارہ نشانہ بنایا۔
جنوبی لبنان کی سرحدی پٹی پر گذشتہ کئی ہفتوں سے شدید کشیدگی دیکھی جا رہی ہے، جہاں قابض اسرائیلی فوج روزانہ کی بنیاد پر فضائی و زمینی حملے کر رہی ہے۔ صہیونی فوج دعویٰ کرتی ہے کہ وہ حزب اللہ کے کارکنان، کمانڈروں اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنا رہی ہے، تاہم نہ حزب اللہ اور نہ ہی لبنانی فوج کی جانب سے ان حملوں کا تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔
قابض اسرائیل کی جانب سے یہ حملے اس کے جارحانہ عزائم کا تسلسل ہیں، جو سنہ 27 نومبر 2024ء کو امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
یہ معاہدہ دراصل اُس خونی جارحیت کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا جو قابض اسرائیل نے اکتوبر سنہ 2023ء میں لبنان پر مسلط کی تھی، جو بعدازاں ستمبر سنہ 2024ء میں ایک ہمہ گیر جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ اس تباہ کن جنگ میں 4 ہزار سے زیادہ لبنانی شہری شہید اور تقریباً 17 ہزار زخمی ہوئے۔
قابض اسرائیل اب بھی اس معاہدے کو روندتے ہوئے جنوبی لبنان کی پانچ بلندیاں اپنی غیرقانونی تحویل میں رکھے ہوئے ہے، جن پر اس نے آخری جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ لبنان کے متعدد علاقے ایسے بھی ہیں جو دہائیوں سے صہیونی تسلط میں ہیں۔