• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 22 جنوری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

قابض اسرائیل کا ناروے کے وزیراعظم پر شدید غصہ

قابض اسرائیل کا ناروے کے وزیراعظم پر نسلی امتیاز مخالف تقریب میں شرکت پر شدید غصہ

منگل 11-11-2025
in خاص خبریں, عالمی خبریں
0
قابض اسرائیل کا ناروے کے وزیراعظم پر شدید غصہ
0
SHARES
13
VIEWS

روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ

قابض اسرائیل نے ناروے کے وزیراعظم یوناس غار اسٹور پر اس وقت شدید برہمی کا اظہار کیا جب انہوں نے اوسلو میں نسل پرستی کے خلاف ایک تقریب میں شرکت کی۔ یہ تقریب ناروے کے "مرکز برائے انسدادِ نسل پرستی” کی جانب سے ناروے کمیٹی برائے فلسطین کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی۔ قابض اسرائیل نے اس تقریب میں شرکت کو یہودی برادری کی جانب سے منعقدہ تقریب میں عدم شرکت کے برابر سمجھتے ہوئے ناروے کے وزیراعظم پر "اخلاقی انحطاط اور یہود دشمنی” کا الزام لگایا۔

قابض اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اتوار کے روز اپنے بیان میں کہا کہ "وزیراعظم یوناس اسٹور نے اخلاقی انحطاط، اسرائیل دشمنی اور یہود دشمنی میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے”، اور ان کی شرکت کو ناروے کی اسرائیل مخالف پالیسی سے جوڑنے کی کوشش کی۔

قابض اسرائیل ہمیشہ سے "یہود دشمنی” کے الزامات کو اپنے جنگی جرائم اور نسل کشی کے جواز کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے۔ خاص طور پر فلسطینیوں کے خلاف اپنے ظلم و ستم کو چھپانے کے لیے وہ دنیا بھر میں ہمدردی سمیٹنے کے لیے یہی حربہ اختیار کرتا ہے۔ اب تک وہ نہ صرف اپنے مخالفین بلکہ ان عالمی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنا چکا ہے جو قابض اسرائیل کے مظالم پر تنقید کرتے ہیں۔

غزہ میں جاری نسل کشی اور مغربی کنارے پر مسلسل جارحیت کے دوران قابض اسرائیل نے دنیا کے کئی اعلیٰ سطحی رہنماؤں پر "یہود دشمنی” کے الزامات لگائے ہیں، حتیٰ کہ ان ممالک کے رہنماؤں پر بھی جو خود کو اسرائیل کے قریبی اتحادی قرار دیتے ہیں۔ ان میں جنوبی افریقہ، کولمبیا اور اسپین کے حکام شامل ہیں، اور اب ناروے کے وزیراعظم بھی انہی الزامات کی زد میں آ گئے ہیں۔

تمام اقلیتوں کے تحفظ پر زور

اپنے ردعمل میں ناروے کے وزیراعظم یوناس اسٹور نے اتوار کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر کہا کہ "ناروے نے اوسلو میں دونوں تقریبات میں نمائندگی کی تاکہ ہر قسم کی یہود دشمنی کے خلاف اپنی پختہ وابستگی کا اظہار کیا جا سکے۔” انہوں نے براہ راست کسی تقریب کا نام لیے بغیر اس امر کی وضاحت کی کہ ان تقریبات کا تعلق سنہ1938ء میں نازیوں کے ہاتھوں جرمنی، آسٹریا اور چیکوسلواکیہ میں یہودیوں کی دکانوں اور عبادت گاہوں پر حملوں کی یاد میں منائے جانے والے "شب البلور” یا "ٹوٹے شیشے کی رات” سے تھا۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ "ٹوٹا ہوا شیشہ آج کے دور میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، انٹرنیٹ پر، سوشل میڈیا میں یا تقریبات میں، جہاں نفرت انگیز رویے مختلف اقلیتوں کے خلاف سامنے آتے ہیں—چاہے وہ یہودی ہوں، مسلمان ہوں، خانہ بدوش ہوں یا صنفی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں کوئی ‘دوسرے’ کے زمرے میں نہ آتا ہو۔ اگر ایک گروہ پر حملہ ہوتا ہے تو ہم سب متاثر ہوتے ہیں، اور ہمارا اخلاقی فریضہ ہے کہ ایک دوسرے کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوں۔”

وزیراعظم اسٹور نے زور دیا کہ "شب البلور کی یاد منانا ضروری ہے کیونکہ کسی بھی طبقے کے خلاف نفرت انگیز تقریر ناروے کے قانون کے تحت ناقابلِ برداشت اور غیر قانونی ہے۔”

انہوں نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ "میں اور میری حکومت ناروے میں یہودی برادری کے مکمل تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے، جیسے ہم تمام دیگر اقلیتوں کے ساتھ بھی کھڑے ہیں۔”

کسی گروہ کے خلاف نفرت کی کوئی گنجائش نہیں

ناروے کے "مرکز برائے انسدادِ نسل پرستی” نے جس کی بنیاد 1984ء میں رکھی گئی تھی، وزیراعظم کی شرکت کے ساتھ منعقدہ تقریب کی تصاویر جاری کیں۔ مرکز نے اپنے بیان میں کہا کہ "شب البلور کی یاد صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے—یہ یاد دہانی کہ نفرت خود بخود ختم نہیں ہوتی اور یہود دشمنی آج بھی زندہ ہے۔”

بیان میں کہا گیا کہ "یہ یاد محض ماضی کی ایک کہانی نہیں ہونی چاہیے بلکہ انسان کی حرمت کے تحفظ کا وعدہ ہونا چاہیے—چاہے وہ کسی بھی مذہب، نسل یا قومیت سے تعلق رکھتا ہو۔”

مرکز نے مزید کہا کہ مشہور نعرہ "یہ دوبارہ کبھی نہیں ہونا چاہیے” اس بات کی علامت ہے کہ کسی بھی قوم کے خلاف ظلم و ستم اور قتل عام کی تاریخ دہرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

یہی نعرہ حالیہ دنوں میں دنیا بھر میں ان مظاہروں اور احتجاجی ریلیوں میں سنائی دیا جو غزہ پر قابض اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے خلاف منعقد کی جا رہی ہیں۔ یہ نعرہ دراصل اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ماضی میں جو مظالم نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں پر ڈھائے گئے، وہ آج قابض اسرائیل فلسطینی قوم پر دہرا رہا ہے—اور انسانیت اس ظلم کے خلاف ایک بار پھر "کبھی نہیں دوبارہ” کہہ رہی ہے۔

Tags: Free PalestineGaza under attackHuman rights violationIsraeli aggressionWar crimes in Gazaاسرائیلی قبضہعالمی یکجہتیغزہ میں نسل کشیفلسطینی مزاحمتمسجد اقصیٰ
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.