(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ غزہ میں صیہونی دہشتگردی کے ۔تیجے میں تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے لاپتہ افراد اور شہداء کی لاشوں کی تلاش کے لیے جاری کارروائیوں کے دوران مزید شہداء کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔ یہ کارروائیاں جنگ بندی معاہدے کے 29ویں دن بھی جاری ہیں۔
وزارت صحت نے کہا کہ اس کی طبی ٹیموں نے ملبے تلے سے 25 شہداء کی لاشیں نکالی ہیں، جبکہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فائرنگ سے مزید 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت نے وضاحت کی کہ غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی تعداد 48,264 تک جا پہنچی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 111,688 ہو گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار 7 اکتوبر 2023 سے اب تک کے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کئی شہداء اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں، لیکن ریسکیو ٹیموں اور شہری دفاع کے عملے کو ان تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ ضروری سازوسامان کی کمی اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے بھاری مشینری کی غزہ میں آمد میں رکاوٹیں ڈالنا ہے، جو ملبہ ہٹانے اور لاشوں کو نکالنے کے لیے ناگزیر ہے۔
جنگ بندی معاہدے کے باوجود غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج اب بھی غزہ میں فلسطینیوں کو ڈرون حملوں اور براہ راست فائرنگ سے نشانہ بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں مزید شہداء اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی، 15 ماہ سے زائد عرصے سے جاری اسرائیلی نسل کشی کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی لاشوں کو بھی ملبے تلے سے نکالنے کا عمل جاری ہے، تاہم ریسکیو ٹیموں کو ضروری مشینری اور آلات کی کمی کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ 19 جنوری کو حماس اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہوا تھا۔
معاہدے کے پہلے مرحلے کا دورانیہ 42 دن ہے، جس کے دوران دوسرے اور تیسرے مرحلے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔ اس معاہدے میں مصر، قطر اور امریکہ ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسرائیلی جارحیت، جو امریکی حمایت کے ساتھ جاری ہے، نہ صرف ہزاروں شہداء اور زخمیوں کا سبب بنی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں 14,000 سے زائد افراد لاپتہ ہو چکے ہیں، جبکہ پورے علاقے میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیل چکی ہے۔
