(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی وزارتِ صحت نے آج بروز اتوار اعلان کیا ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ 19 جنوری کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 116 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 490 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارت صحت نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ "آج صبح سے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی غزہ کے مختلف علاقوں میں جارحیت کے نتیجے میں مزید 4 فلسطینی شہید اور 6 زخمی ہو چکے ہیں۔”
وزارتِ صحت نے مزید کہا کہ "19 جنوری کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 116 ہو چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 490 سے تجاوز کر چکی ہے۔”
اتوار کی صبح ایک طبی ذرائع نے اناضول کے نمائندے کو بتایا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے ڈرون حملے میں خان یونس کے مشرقی علاقے الفراحین میں ایک فلسطینی خاتون شہید اور دو دیگر خواتین زخمی ہو گئیں۔
اسی طرح جنوبی شہر رفح میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے اسنائپر حملے میں ایک فلسطینی شہید اور دو زخمی ہو گئے، جس کی تصدیق عینی شاہدین نے کی۔ شمالی غزہ کے علاقے بیت حانون میں ایک طبی ذرائع نے بتایا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے فضائی حملے میں دو فلسطینی نوجوان شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔
دوسری جانب، قابض فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ "شمالی غزہ میں کچھ مشتبہ افراد کو ہماری افواج کے قریب دیکھا گیا، جو وہاں ایک دھماکہ خیز مواد نصب کر رہے تھے۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ "فضائیہ کے ڈرون نے ان مشتبہ افراد کو ہدف بنا کر حملہ کیا تاکہ خطرہ ختم کیا جا سکے۔”
واضح رہے کہ 19 جنوری کو مصر، قطر، اور امریکہ کی ثالثی میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، جس میں تین مراحل شامل تھے، اور ہر مرحلہ 42 دنوں پر مشتمل تھا۔ تاہم، 11 فروری کو ایک فلسطینی ذرائع نے انکشاف کیا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے اس معاہدے کی 269 خلاف ورزیاں کی ہیں، جن میں فوجی دراندازی، فائرنگ، بمباری، فضائی نگرانی، فلسطینی قیدیوں کے حقوق کی پامالی، امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹیں، اور تعمیرِ نو کے عمل پر سخت پابندیاں شامل ہیں۔
آج، اتوار کے روز غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ بنیامین نیتن یاہو نے "آج صبح سے غزہ کی پٹی میں تمام تر اشیاء اور امدادی سامان کی ترسیل بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی مدت مکمل ہو چکی ہے، اور حماس نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی رمضان المبارک کے دوران عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔”
