(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل میں ہجرت کے رجحانات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث صیہونی حکام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ تحقیق اسرائیلی تعلیمی مرکز روبین میں کی گئی، جس کے نتائج اسرائیلی ویب سائٹ والا نے شائع کیے ہیں۔
فرار ہونے کی بڑھتی ہوئی شرح
تحقیق کے مطابق، 2024 میں 24% صیہونی بستیوں کے مکینوں نے فلسطینی علاقوں سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ دو سال قبل یہ شرح صرف 18% تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سلامتی اور معاشی حالات نے اس رجحان کو مزید بڑھایا ہے۔
فرار ہونے کی وجوہات
تحقیق کے مطابق، صیہونی آبادی میں ہجرت کی وجوہات میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور معاشی مشکلات سرِفہرست ہیں۔31% لوگوں نے سلامتی خدشات کی وجہ سے ہجرت کا سوچا۔ 28% افراد نے معاشی حالات کو ہجرت کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ 2023 میں غزہ پر مسلط کی گئی جنگ کے بعد، 80% صیہونی باشندے جو ہجرت کر چکے تھے، پہلے ہی اپنے آبائی ممالک میں جنگ کا سامنا کر چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل میں بھی انہیں وہی خوف لاحق ہے، جہاں وہ "ایک نئی جنگ کے سائے میں زندگی گزارنے اور پیچھے رہ جانے والے اہل خانہ کی سلامتی کے بارے میں پریشان رہتے ہیں۔”
نئے مہاجرین پر صیہونی عوام کے تحفظات
تحقیق میں یہودی عوام کے ان مہاجرین کے بارے میں خیالات کا بھی جائزہ لیا گیا، جو حالیہ برسوں میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل میں منتقل ہوئے ہیں۔ نتائج کے مطابق: 33.5% صیہونی باشندوں کا ماننا ہے کہ نئے مہاجرین کو صیہونی پالیسیوں پر تنقید کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
28% لوگوں کو خدشہ ہے کہ دشمن ممالک سے آنے والے مہاجرین ریاست کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
19% کا خیال ہے کہ جنگی حالات اور معاشی بحران کے دوران ہجرت کو محدود کیا جانا چاہیے۔
سرمایہ کی بیرونِ ملک منتقلی – ایک نیا مسئلہ
تحقیق میں صیہونی معیشت پر بھی روشنی ڈالی گئی اور معلوم ہوا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل سے بیرون ملک رقوم بھیجنے کا رجحان بھی تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ 42% صیہونی باشندے اس عمل کو "سنگین مسئلہ” قرار دیتے ہیں۔
یہ تحقیق غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے اندرونی مسائل اور بڑھتے عدم استحکام کو واضح کرتی ہے، جو نہ صرف صیہونی حکومت بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے بھی ایک اہم سوالیہ نشان بن چکا ہے۔