رام اللہ ۔روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ
انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں اور فلسطینی فلاحی اداروں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی شہری محمود خضر عبد العدرا المعروف "ہشام حرب” کو فرانس کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ العدرا کو گذشتہ ستمبر میں پیرس میں سنہ 1982ء کے ایک حملے سے متعلق بین الاقوامی وارنٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔ تنظیموں نے اس اقدام کو فلسطینی بنیادی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور قومی عدلیہ کی خودمختاری پر سنگین حملہ قرار دیا۔
یہ انتباہ ایک مشترکہ بیان میں سامنے آیا جس پر انسانی حقوق کی خودمختار اتھارٹی، فلسطینی ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کونسل اور دیگر سماجی اداروں نے دستخط کیے۔ بیان میں کہا گیا کہ سرکاری سطح پر سامنے آنے والے وہ اشارے جو العدرا کو فرانس کے حوالے کرنے کی نیت ظاہر کرتے ہیں، نہایت تشویشناک اور ناقابلِ قبول ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ فلسطینی بنیادی قانون کسی بھی شہری کو غیر ملکی حکومت کے حوالے کرنے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ اس قانون کی شق نمبر (28) کے مطابق "کسی فلسطینی کو وطن سے جلاوطن نہیں کیا جا سکتا، نہ اسے واپسی کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے، نہ ہی کسی غیر ملکی فریق کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔”
انسانی حقوق کی تنظیموں نے زور دے کر کہا کہ اس اصول کی خلاف ورزی ریاستی خودمختاری، آئینی حقوق اور فلسطینی عدالتی نظام کی بنیادوں پر حملہ ہے، اور اگر یہ قدم اٹھایا گیا تو یہ ایک خطرناک نظیر ثابت ہوگا جو مستقبل میں دیگر ممالک کو بھی فلسطینی شہریوں کی حوالگی کا مطالبہ کرنے کا جواز فراہم کرے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ "ہر شہری کا حق ہے کہ اس کا مقدمہ آزاد قومی عدلیہ کے سامنے منصفانہ طور پر سنا جائے۔ یہ حق فلسطینی قانونی نظام کی اساس ہے، جسے کسی بھی سیاسی دباؤ یا بیرونی مداخلت کے تحت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔” تنظیموں نے فلسطینی قیادت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بنیادی قانون کی مکمل پاسداری کریں اور اس معاملے کو صرف فلسطینی عدالتی دائرے میں رکھتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کریں، تاکہ کسی بھی غیر ملکی دباؤ یا سیاسی مصلحت سے قانون متاثر نہ ہو۔
یہ انتباہ اُس وقت سامنے آیا جب فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے رام اللہ کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پیرس کے روزیئر اسٹریٹ حملے کے مبینہ ملزم کو گرفتار کیا۔ اس حملے میں چھ اسرائیلی مارے گئے تھے۔
میکروں نے عباس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ہشام حرب کی گرفتاری "متاثرین کے لیے انصاف کے حصول کی ایک اہم پیش رفت” ہے، اور دعویٰ کیا کہ فرانسیسی اور فلسطینی سکیورٹی ادارے مل کر اس گرفتاری کے بعد حرب کو فرانس منتقل کرنے پر کام کر رہے ہیں تاکہ وہ "فرانسیسی عدالتوں میں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا ہو سکے۔”
فرانسیسی اخبار "لو فیگارو” کو دیے گئے انٹرویو میں محمود عباس نے کہا کہ "حوالگی کے عمل کی تکمیل میں صرف چند تکنیکی مراحل باقی ہیں”، جس بیان نے فلسطینی انسانی حقوق کے حلقوں میں قانون کی صریح خلاف ورزی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔
فرانسیسی نیوز چینل "فرانس24” کے مطابق، 19 ستمبر کو فرانسیسی انسدادِ دہشت گردی استغاثہ نے اعلان کیا تھا کہ "ہشام حرب” (پیدائش 1955) کو مغربی کنارے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرفتاری انٹرپول کے ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے بعد عمل میں آئی، اور یہ مقدمہ رواں سال جولائی میں خصوصی فوجداری عدالت کو منتقل کیا گیا تھا۔