• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 28 اگست 2025
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home بریکنگ نیوز

غزہ کا محاصرہ: اصل مسئلہ اور واحد حل

رپورٹوں کے مطابق تقریباً ایک ملین افراد کے لیے چار ماہ کا خوراکی سامان مصر کی سرحد پر (رفح کراسنگ) رکا ہوا ہے، لیکن اسے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

جمعرات 28-08-2025
in بریکنگ نیوز, خاص خبریں, غزہ, فلسطین, مقالا جات
0
انروا: اسرائیلی جنگ نے غزہ کا امدادی نظام تباہ کر دیا

Buildings lie in ruin, following a ceasefire between Israel and Hamas, in Jabalia in the northern Gaza Strip, January 21, 2025. REUTERS/Dawoud Abu Alkas

0
SHARES
1
VIEWS

غزہ کی صورتِ حال دن بہ دن سنگین تر ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیل نے رفح کراسنگ کو بند کر کے اور محاصرے کو برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف اشیائے خوردونوش بلکہ انسانی ہمدردی پر مبنی امداد کی راہیں بھی مسدود کر دی ہیں۔ یہ سب کچھ مغربی حکومتوںبالخصوص امریکہ کی براہِ راست یا بالواسطہ حمایت اور خاموشی کے ساتھ جاری ہے۔ اسی طرح اس صورتحال پر خطے کی عرب حکومتیں بھی مجرمانہ انداز میں خاموش ہیں۔ ظلم تو یہ ہے کہ مصر نے انہی دنوں میں اسرائیل کے ساتھ گیس کا معاہدہ کر لیا ہے۔ یہ سراسر فلسطین کاز کے ساتھ ناانصافی اور فلسطینیوں کی قربانیوں کو فراموش کرنے جیسا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ غزہ کے عوام خوراک اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اورغاصب صیہونی دشمن بھوک کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ غزہ میں خوراک اور دیگر اشیاء داخل نہیں ہو پا رہیں۔ ان دنوں جب ہم یہ سنتے ہیں کہ خوراک سے لدے ہوئے ٹرک غزہ کی سرحد پر رکے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی یہ آواز بھی بلند ہوتی ہے کہ غزہ کے لوگ بھوکے ہیں، مالی امداد کریں، تو بظاہر یہ دونوں جملے ایک دوسرے کے متضاد لگتے ہیں۔ کچھ لوگ سوال بھی کرتے ہیں کہ اگر ٹرک اندر داخل ہی نہیں ہو رہے، تو مالی امداد کا فائدہ کیا ہے؟ آئیے صاف الفاظ میں کہیں کہ دونوں باتیں درست ہیں، لیکن اصل مسئلہ ان سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔یہ مسئلہ کیا ہے؟ یہ مسئلہ یعنی غزہ کا محاصرہ ہے۔
پچھلے چند ماہ سے خوراک اور ادویات کی بڑی گزر گاہیں بند ہیں۔ اس وقت غزہ کے اندر جو کچھ موجود ہے، وہ یا تو پرانا ذخیرہ ہے یا پھر انتہائی تاخیر اور کم مقدار میں کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے داخل ہوتا ہے۔ یہ سامان بھی چند لالچی تاجروں کو دیا جاتا ہے، جو قابضین کے ساتھ ہم آہنگی کر کے عوام کی مدد کرنے کے بجائے بحران کو مزید بڑھاتے ہیں اور دباؤ بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ان تاجروں کے لیے آنے والے ٹرکوں کی تعداد نہایت کم ہے، اور یہ لوگ خوراک کو بہت زیادہ قیمت پر بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ ان میں سے ۹۹ فیصد سے زائد سامان دراصل غزہ میں فعال عوامی ادارے اور گروہ خرید کر عوام میں تقسیم کرتے ہیں، کیونکہ عام لوگ خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ رپورٹوں کے مطابق تقریباً ایک ملین افراد کے لیے چار ماہ کا خوراکی سامان مصر کی سرحد پر (رفح کراسنگ) رکا ہوا ہے، لیکن اسے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
چونکہ سامانِ خوردونوش کی ترسیل محدود کر دی گئی ہے اور غزہ کا انحصار انہی چند بدعنوان تاجروں پر رہ گیا ہے، لہٰذا عملی طور پر خوراک کا واحد ذریعہ یہی لوگ بن گئے ہیں۔ نتیجتاً قیمتیں ان کی مرضی کے مطابق اور ان کے بحران پیدا کرنے کے ایجنڈے کے تحت مقرر کی جاتی ہیں۔ جنگ کے دوران عوامی مالی امداد کی بدولت مجاہد گروہوں نے کسی حد تک خوراک فراہم کر کے مکمل قحط کو وقتی طور پر روکنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن یہ اقدامات ناکافی ثابت ہوئے اور اصل مسئلے کا حل نہ بن سکے۔
اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں ان میں سے اکثر عوامی ادارے اور امدادی گروہ شدید بحران اور وسائل کی کمی کے باعث اپنا کام روکنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یعنی آج جب دنیا کی توجہ غزہ کے محاصرے اور قحط کی اس المیہ صورتِ حال پر ہے، عوامی ردِعمل کو صرف مالی امداد تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ امداد اپنی اہمیت کے باوجود اس جان بوجھ کر پیدا کیے گئے قحط اور منظم بحران کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
یعنی یہاں یہ بات واضح ہوئی کہ غزہ کا اصل مسئلہ اس وقت محاصرہ ہے اور اس محاصرے کو توڑنا چاہئیے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی جدوجہد کا رخ محاصرہ توڑنے کی طرف ہونا چاہیے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ امدادی سامان یا کم از کم تجارتی اشیاء مناسب قیمت پر مقامی تاجروں کے ذریعے غزہ میں پہنچیں، نہ کہ اس بدعنوان نیٹ ورک کے ذریعے جو قابض قوتوں سے جڑا ہوا ہے۔
یاد رکھیں جب تک محاصرہ جاری ہے، اسرائیل اس بھوک کو غزہ کے عوام کے خلاف دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتا رہے گا۔یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ اگر پوری دنیا کے لوگ فوری طور پر مالی امداد فراہم بھی کریں، تب بھی غزہ کے اندر اتنی خوراک موجود ہی نہیں کہ خریدی جا سکے اور عوام تک پہنچائی جا سکے۔ محاصرے کے تحت منظم کی گئی بھوک کے مقابلے میں محض پیسہ کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ یہ وقتی تسکین تو فراہم کر سکتا ہے مگر اصل مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔
اس بحران کا واحد حقیقی حل یہی ہے کہ مصر اور فلسطین کے درمیان واقع رفح کراسنگ کھولی جائے اور امدادی یا تجارتی سامان کو غزہ میں داخل ہونے دیا جائے۔ بین الاقوامی قوانین بھی واضح طور پر بتاتے ہیں کہ بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ایک جنگی جرم ہے اور اسرائیل کو اس پالیسی سے باز رہنا چاہیے۔اس مقصد کے حصول کا راستہ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اس ہدف کو کیسے حاصل کیا جائے؟ جواب ہے عوامی دباؤ۔
اسرائیل سے تعلق رکھنے والی حکومتوں اور ان کے سفارتخانوں پر مسلسل دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔ عوامی مہمات، مغربی سفارتخانوں کے سامنے احتجاج اور دھرنے، اور مختلف ملکوں میں ان کے معمول کے کام کو متاثر کرنا ایسے اقدامات ہیں جو عملی دباؤ پیدا کر سکتے ہیں۔جب یہ سفارتخانے سماجی دباؤ اور عوامی
مزاحمت کا سامنا کریں گے تو ناچار اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں گے، اور یہ حکومتیں چاہے وقتی طور پر ہی سہی اسرائیل کو سرحدی راستے کھولنے پر مجبور کریں گی۔
خلاصہ یہ ہے کہ مالی امداد اپنی جگہ ضروری ہے مگر یہ کافی نہیں۔ اگر محاصرہ برقرار رہے تو صرف مالی امداد دینا دراصل اسرائیل کی اسی پالیسی کو مضبوط کرتا ہے جس کے تحت غزہ کی آبادی کوبتدریج بھوکا رکھنے کے ذریعے قابو میں کرنے اور بے گھر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لہٰذا اگر ہم ایک مؤثر عوامی جدوجہد چاہتے ہیں تو محض پیسے بھیجنے سے آگے بڑھنا ہوگا اور محاصرہ توڑنے کی عملی کوشش کرنی ہوگی۔ اس کے لیے سب سے اہم راستہ رفح کراسنگ ہے، جس کا کھلنا غزہ کے عوام کے لیے زندگی اور امید کا پیغام بن سکتا ہے۔ یعنی اصل مسئلہ محاصرہ ہے، اور اصل جدوجہد اس محاصرے کو توڑنے کے لیے ہونی چاہیے۔ جب تک رفح کراسنگ اور دیگر گزرگاہیں نہیں کھلتیں، نہ خوراک مستقل طور پر پہنچ سکتی ہے اور نہ ہی عوام کو بھوک کے ہتھیار سے نجات مل سکتی ہے۔

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان

Tags: صہیونی فوجصیہونیصیہونی ریاستغزہفلسطینمحاصرہ
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.