چوبیس مئی دو ہزار اٹھارہ کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پہلی بار ایک متفقہ قرارداد میں خوراک اور قحط کو جنگی ہتھیار بنانے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریاستی تصادم یا اندرونی خانہ جنگی میں ملوث کوئی فریق خوراک کے ذخائر، کھلیانوں، غلہ منڈیوں اور خوراک کے تقسیمی ڈھانچے کو ہرگز نشانہ نہ بنائے۔ نیز ضرورت مندوں تک خوراک کی ترسیل میں قطعاً رکاوٹ نہ ڈالے۔ ایسی کوئی بھی حرکت مسلمہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے۔ سلامتی کونسل نے یہ مثبت قرارداد خوش نیتی سے منظور تو کرلی مگر یہ ہدایت دینا بھول گئی کہ اس کا اطلاق اسرائیل یا اس جیسی سفاک ریاستوں پر ہرگز نہ ہو گا۔ مثلاً اس وقت خانہ جنگی سے لہولہان سوڈان اور کانگو میں کم ازکم دو کروڑ ستر لاکھ انسان بھک مری سے جوجھ رہے ہیں۔ بالخصوص سوڈان کے علاقے دارفر کے صدر مقام الفشیر کے ساڑھے سات لاکھ شہری بھوک کے مکمل محاصرے میں ہیں۔
مصنوعی قحط کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنا فاتحین اور طاقت وروں کا پرانا حربہ ہے۔ اس میں قدیم اور جدید دور کی کوئی تمیز نہیں۔ زمانہِ قدیم کی ایک نمایاں مثال رومنوں کی ہے جنھوں نے ایک سو انچاس تا ایک سو چھیالیس قبلِ مسیح میں کارتھیج (تیونس) کے تین سالہ محاصرے کے دوران ایک دانہ بھی شہر میں نہ پہنچنے دیا۔لوگ فاقوں اور بیماریوں سے پتنگوں کی طرح مرنے لگے۔ یوں انھیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا گیا۔ سات دن تک ان قحط زدگان کا قتلِ عام جاری رہا۔ باسٹھ ہزار باشندے مارے گئے۔ زندہ رہ جانے والے پچاس ہزار لوگوں کو غلام بنا کر فروخت کر دیا گیا۔ آس پاس کے کھیتوں میں نمک بو کر شہر کو راکھ کر دیا گیا۔ کارتھیج سلطنتِ روما کا مقبوضہ صوبہ بن گیا۔ یوں رومنوں نے کارتھیج کے حکمران ہنی بال سے ایک صدی پہلے کھائی شکست کا بدلہ لے لیا۔ بحیرہ روم کے چوطرف روم کا کوئی مدِ مقابل نہ بچا۔
جولیس سیزر نے بھی گال (فرانس) میں مہم جوئی کے دوران بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے میں عار محسوس نہیں کیا۔ چنگیز خان سے تیمور تک سبھوں نے سمرقند تا بغداد ہر آبادی کو بھوک کے ہاتھوں زیر کیا اور کھوپڑیوں کے مینار بنوائے۔ صلیبی جنگوں میں مذہبی جوش سے بھرے یورپی لشکروں نے آج کے لبنان، شام اور فلسطین میں مسلمان آبادیوں کا بھوک کے ہتھیار سے محاصرہ کیا اور کھیت کھلیان جلانے کے بعد خود بھی دانے دانے کو ترس کے مرنے لگے۔ ہندوستان میں قلعہ بند انسانوں کو بھوک سے مارنے کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے۔ چودہ سو بانوے تا سولہ سو عیسوی کے عرصے میں براعظم شمالی و جنوبی امریکا میں پرتگالی، ہسپانوی، فرانسیسی، برطانوی اور ڈچ نو آبادکاروں اور شاہی افواج کے ہاتھوں اور درآمد شدہ اجنبی بیماریوں کے سببب چھپن ملین دیسی امریکی مرے۔
سہولہویں تا انیسویں صدی جن غلاموں کو زرعی و صنعتی بیگار کے لیے اغوا کر کے مغربی افریقہ کے ساحل سے براعظم امریکا پہنچایا گیا۔ ان میں سے نصف تو سمندری سفر کے دوران ہی بھوک اور بیماری کی تاب نہ لاسکے۔ زندہ پہنچنے والے ایک کروڑ بیس لاکھ غلام بھی گنے اور کپاس کے کھیتوں میں غیر انسانی مشقت کے سبب اپنی آمد کے بعد اوسطاً سات برس ہی زندہ رہ پاتے۔ جس جارج واشنگٹن اور ابراہام لنکن کی تصاویر آج ڈالر کے نوٹ پر چھپی ہوئی ہیں۔ وہ بھی بھوک بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی سہولت میں کسی قدیم سے پیچھے نہیں رہے۔ امریکا کے اصل قبائل جنھیں پہلے ریڈ انڈین اور پھر نیٹو امریکنز (دیسی) کہا جانے لگا۔ ان کی زبان میں آج تک ایک اصطلاح زندہ ہے ’’کونوٹوکیرئیس‘‘ یعنی ’’بستی تاراج کرنے والا‘‘۔ یہ اصطلاح اٹھارویں اور انیسویں صدی میں دیسی امریکیوں کی نسل کشی کرنے والے گورے آبادکاروں کے لیے مخصوص ہے۔ پہلا ’’کونوٹو کیرئیس‘‘ جارج واشنگٹن قرار دیا گیا۔
دیسی امریکیوں نے گوری یلغار کی مزاحمت کے لیے ایک قبائلی اتحاد ’’اروکیو کنفیڈریسی‘‘ تشکیل دیا۔ اروکیو کنفیڈریسی کے قبائل نے خود کو بچانے کے لیے برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ سے تعاون کیا مگر برطانوی فوج خود کو شکست سے نہ بچا پائی تو محکوموں کی کیا مدد کرتی۔ جارج واشنگٹن کے ’’حریت پسند‘‘ دستوں نے نیویارک کی ریاست میں چالیس قدیم دیہاتوں کو صفحہِ ہستی سے دیسی مکینوں اور کھلیانوں سمیت مٹا دیا۔ چنانچہ ہزاروں مقامی باشندے سردی اور بھوک کا لقمہ بن گئے۔ آنے والے برسوں میں جیسے جیسے گورے آبادکار مغرب کی جانب بڑھتے گئے مقامی آبادی صاف ہوتی چلی گئی۔ مکمل نسل کشی کے لیے زراعت کی تباہی کے ساتھ ساتھ اٹھارہ سو ساٹھ تا ستر کے دس برس میں نئی حکمتِ عملی کے تحت جنگلی بھینسوں (بائسن) کا بھی لاکھوں کی تعداد میں صفایا کر دیا گیا تاکہ مقامی باشندوں کو پروٹین نہ مل سکے۔ اس دور کے امریکی آبادکاروں میں یہ کہاوت عام تھی ایک بائسن مارنے کا مطلب ایک انڈین کو مارنا ہے۔ جگہ جگہ جنگلی بھینسوں کی ہڈیوں کی پہاڑیوں کے ڈھیر لگ گئے۔
سولہویں صدی میں شمالی امریکا میں جنگلی بھینسوں کی تعداد لگ بھگ چھ کروڑ تھی۔ اٹھارہ سو اسی کے عشرے تک ان کی تعداد محض تین سو پچیس رہ گئی۔ آج ان کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ ہے۔ ان میں سے پانچ ہزار یلیو اسٹون نیشنل پارک میں محفوظ ہیں۔ جب کہ دیسی امریکی جو سولہویں صدی تک پورے شمالی امریکا میں آزاد رہ رہے تھے۔ آج ان کی نسلیں محض چند لاکھ ایکڑ تک کے مخصوص علاقوں میں بسی ہوئی ہیں اور سرکاری رعائیتوں پر زندہ ہیں۔ یہ ہتھیار صرف مقامی باشندوں کے خلاف ہی استعمال نہیں ہوا بلکہ امریکی خانہ جنگی کے دوران شمالی کنفیڈریشن کے صدر ابراہام لنکن نے جنوبی کنفیڈریشن کے خلاف بھی قانوناً جائز قرار دیا۔ اپریل اٹھارہ سو اکہتر میں ’’لائبر کوڈ‘‘ جاری ہوا۔ اس ضابطے کے آرٹیکل سترہ کے مطابق ’’جنگ محض ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ مسلح و غیر مسلح دشمن کو بھوکا مارنا بھی جنگ کا حصہ ہے۔ محاصرہ توڑ کے نکل بھاگنے والے شہریوں کو گھیرنا بھی جائز ہے تاکہ دشمن کو آسانی سے مغلوب کیا جا سکے‘‘۔
امریکی جنرل یولیسس گرانٹ نے جنوبی کنفیڈریشن کے حوصلے پست کرنے کے لیے ورجینیا کی وادی شینن ڈوہا کا ہر کھیت، کھلیان اور گھر جلوا دیا۔ امریکی محکمہ دفاع نے ایک سو باون برس بعد (دو ہزار پندرہ) میں لائبر کوڈ سے باضابطہ لاتعلقی کا اعلان کیا۔ امریکیوں کی دیکھا دیکھی کینیڈا میں بھی آبادکاروں نے مقامی باشندوں کی زمین چھیننے کے لیے خوراک پر سب سے پہلے حملہ کیا اور انھیں من مرضی کے معاہدے کرنے پر مجبور کیا۔ سن سترہ سو ستر کے عشرے میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال اور ملحقہ علاقوں میں خوراک کے ذخائر اتنے ظالمانہ انداز میں ضبط کیے کہ وبائی انداز میں پھیلنے والے قحط نے لگ بھگ ایک کروڑ ہندوستانیوں کو مار ڈالا۔ انیس سو چار سے آٹھ کے درمیان جرمنی کے سامراجی دستوں نے نمیبیا میں مقامی لوگوں کی بغاوت کچلنے کے لیے ہیریرو، ناما، نگونی، نگینڈو، متومبی سمیت جملہ باغی قبیلوں کے تین لاکھ بیس ہزار لوگوں کو بھوک اور گولی سے ختم کر دیا۔یعنی نمیبیا کی آبادی کا ستر فیصد۔
سب سے پہلا کنسنٹریشن کیمپ بھی نمیبیا میں ہی بنا۔ اس ماڈل کو بتیس برس بعد نازیوں نے صنعتی پیمانے پر اپنا کے یہودیوں سمیت ساٹھ لاکھ سے زائد مخالفین کی مشرقی یورپ میں نسل کشی کی۔ آج دنیا میں جتنا اناج پیدا ہوتا ہے وہ دس ارب انسانوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہے جب کہ دنیا کی آبادی آٹھ ارب ہے۔ صرف امریکا میں جتنا اناج پیدا ہوتا ہے وہ دو ارب انسانوں کی غذائی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ مگر بھلا ہو منافع خور لالچی فلسفے کا جو قیمتیں ’’مستحکم‘‘ رکھنے کے لیے لاکھوں ٹن اناج ضایع کر دیتا ہے مگر بھوکوں کے پیٹ میں نہیں پہنچنے دیتا۔ صدر ٹرمپ نے امدادی ادارے یو ایس ایڈ کو جب چند ماہ پہلے بند کیا تو اس کے عالمی گوداموں میں قحط کی ایمرجنسی میں تقسیم کرنے کے لیے ساٹھ ہزار ٹن غلہ پڑا ہوا تھا۔ یہ غلہ ضائع ہو جائے گا پر تقسیم نہیں ہوگا۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اسرائیل آج غزہ میں جو کچھ کر رہا ہے وہ امریکی آبادکاروں اور نازیوں سمیت یورپی سامراج کے آزمودہ ہتھکنڈوں کی جدید شکل ہے۔ بزرگ سرپرستوں کی روایات آگے بڑھانے میں آخر حرج ہی کیا ہے؟ اسرائیل کے ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے تازہ سروے سے اندازہ ہوا کہ تقریباً اسی فیصد یہودی شہری غزہ کے قحط کی اطلاعات سے لاتعلق ہیں۔
تحریر: وسعت اللہ خان