مشرق وسطیٰ: کیا اسرائیل کبھی بھی فلسطین کو ایک ملک نہیں بننے دے گا؟

0
SHARES
0
VIEWS

(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ ) مشرق وسطیٰ بدل رہا ہے۔ اسرائیل نے بہت سے ایسے عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کر لیے ہیں جنھوں نے سنہ 1948 میں اس کے قیام کے بعد کبھی بھی اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔

ایران کے خلاف اسرائیل کے لیے مرکزی کردار کے حامی سنی ممالک کے اتحاد کو تقویت ملی ہے۔ بہار عرب کے ایک دہائی بعد تیونس مسائل سے دوچار ہے۔ ادھر رواں سال عراق، الجیریا، لبنان میں سماجی مظاہروں نے زور پکڑا ہے۔ اس کے علاوہ لیبیا اور یمن میں بھی خانہ جنگی جاری ہے۔

دوسری طرف شام کی جنگ میں روس کی مداخلت سے صدر بشار الاسد کی حکومت بچ گئی ہے اور اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ اس سرزمین سے واپس جا رہا ہے۔

ان سب کے درمیان فلسطین کا وہ سوال جو کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ کی سیاست کا مرکز و محور رہا ہے کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ’دو ملک‘ والا حل دفن کیا جا چکا ہے اور اب بہت سے ماہرین ایک ملک میں دو قومیتوں کے نظریے کو فروغ دے رہے ہیں۔

سعودی عرب، مصر اور دوسرے خلیجی بادشاہت والے ممالک نے اشارہ دیا ہے کہ فلسطین کو الگ ملک بنانے کا مطالبہ اب ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور وہ مستقبل میں ایسا ہونے کا امکان بھی نہیں دیکھ رہے ہیں۔

سعودی شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے دی جانے والی امن کی تجاویز کو قبول کرنا چاہیے ورنہ انھیں خاموش رہنا چاہیے۔

جنوری 2020 میں ٹرمپ حکومت نے امن کی ایک تجویز پیش کی تھی جسے فلسطینی نمائندوں نے اسرائیل نواز قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

سنہ 2020 میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ وہ مغربی کنارے کا ایک تہائی حصہ اسرائیل میں ضم کر دیں گے۔ وہ اس میں تاخیر کرتے رہے شاید اس لیے کہ عرب ممالک ایک کے بعد ایک اسرائیل کو تسلیم کر رہے تھے۔

جولائی میں امریکی یہودی مصنف پیٹر بینارٹ نے نیو یارک ٹائمز میں لکھا: ’اب وقت آگیا ہے کہ ’دو ملکوں‘ کے حل کو ترک کیا جائے۔ یہودیوں اور فلسطینیوں کے مساوی حقوق کے مقصد پر توجہ دی جانی چاہیے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایسا ملک ہو سکتا ہے جس میں اسرائیل ہو، مغربی کنارہ ہو، غزہ اور مشرقی یروشلم ہو یا یہ دونوں ممالک کا اتحاد بھی ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز میں مبصر گیڈین لیوی نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایسے کسی حل کے متعلق سوچیں اور ایسی شروعات کریں جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا کیونکہ دوسرا کوئی آپشن نہیں ہے۔

دو قومیتوں والے ملک کا خیال نیا نہیں ہے۔ سنہ 1948 میں فلسفی حنا ارینڈ نے فلسطین کی تقسیم کے بجائے یہودی، عرب اور دیگر اقلیتوں کے اتحاد کے ساتھ دو قومیتوں والے ملک کا نظریہ پیش کیا تھا۔

اسرائیلی رہنما اور مصنف اوری ایوینری نے سنہ 2013 میں ایسا ہی خیال پیش کیا تھا۔ ان کے علاوہ فلسطینی ایڈورڈ اور یہودی نژاد برطانوی ٹونی جڈ نے بھی ایسی تجویز پیش کی تھی۔

جنوبی افریقہ کے اینتھروپولوجیکل ریسرچ کونسل کی پروفیسر ورجینیا ٹیلی نے بھی اپنی کتاب ’فلسطین،اسرائیل: اے کنٹری‘ میں اس کا مشورہ دیا ہے۔

گذشتہ ایک دہائی میں فلسطین کو اسرائیل میں ضم کرنے کے متعدد ماڈلز کے بارے میں اسرائیل کے سیاسی دائرے میں، خاص طور پر دائيں بازو کے حامیوں میں خدشات پائے جارہے ہیں۔

تمام ماڈلز میں ان کے حقوق محدود کر دیے گئے ہیں یا یہ بہت طویل مدتی منصوبے ہیں جن میں آہستہ آہستہ انھیں کئی نسلوں کے بعد مساوی حقوق ملیں گے۔

پیٹر بینارٹ کی اس تجویز کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی یوسی ایلفر نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔ سلامتی اور معاہدوں کے ماہر یوسی کے مطابق دو قومیتوں والے ملک کی تجویز مشرق وسطیٰ کے تنازعات، اسرائیل کی انتہا پسندانہ فضا اور فلسطینی اتھارٹی کی کمزوری کی حقیقت سے دور ہے۔

ان کے خیال میں اس تجویز سے امریکہ کے لبرل یہودی سرکل اور اسرائیل کی حقیقت کے درمیان فرق ظاہر ہوتا ہے۔

ایلفر کے مطابق دو قومیتوں والا ملک اصل تنازعے کو حل نہیں کر سکتا۔ بلکہ دونوں طرف سے انتہا پسندوں کے مابین پرتشدد تصادم بڑھ سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب اسرائیل کو تباہی کی اس راہ پر جانے سے روکنے کی ضرورت ہے جو وہ مغربی کنارے میں کرنے جا رہا ہے۔ یہ قدم نسل پرستی کے بحران کا باعث بنے گا۔

دوسرے ناقدوں کا کہنا ہے کہ دو قومیتوں والے ملک میں لوگ قیادت کے لیے لڑیں گے اور اسرائیل اور فلسطین میں بسنے والے بہت کم اسرائیلی اور غیر فلسطینی اس تجویز کے حق میں ہیں۔

رائے عامہ کے فلسطینی ماہر خلیل شکاکی کا کہنا ہے کہ گذشتہ جون تک زیادہ تر فلسطینی ایک ملک کی بجائے دو ملکوں کے حل کو ترجیح دے رہے تھے۔

لیکن اس حل کو ناممکن سمجھنے والے افراد کی تعداد اب بڑھتی جارہی ہے۔

جبکہ بیشتر نوجوان فلسطینی ایسے ملک کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جس میں جمہوری اور مساوات کا نظام موجود ہو۔ لیکن زیادہ تر یہودی فلسطینیوں کو مساوی حقوق دینے کے خلاف ہیں۔

سنہ 2014 میں مساوی ممالک کی تجویز دی گئی تھی اور یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ دو ممالک فلسطین اور اسرائیل ایک ہی سرزمین پر موجود ہوں اور اپنے شہریوں کے لیے تقریباً ایک جیسی معاشی، دفاعی اور فلاحی پالیسیاں ہوں۔ سویڈش حکومت نے بھی اس تجویز کی حمایت کی تھی۔

دونوں فریقوں کے مابین تنازع اتنا گہرا ہے، ہر ایک کا ایک دوسرے سے اس قدر مختلف بیانیہ ہے کہ حقوق کا سوال قائم رہے گا۔

تل ابیب یونیورسٹی کے یوآو پیلید کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو اقلیت کی حیثیت سے ثقافتی خود مختاری اور اجتماعی حقوق کے ساتھ ساتھ مساوی شہری اور سیاسی حقوق بھی حاصل ہونا چاہیے۔

ایوارڈ یافتہ اسرائیلی صحافی ہیگئی کا کہنا ہے کہ یہ کہنا غلط ہو گا کہ اس کا حل ایک یا دو ممالک کی تشکیل میں مضمر ہے کیونکہ اہم سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے نوآبادیاتی قبضے کو کس طرح روکا جائے اور فلسطینیوں کے حقوق کا احترام کیا جائے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے فلسطینی پروفیسر راشد خالدی زور دیتے ہیں کہ اس تنازعے میں نو آبادیاتی کردار بھی ہے جس کی بنیادی خصوصیت غیر مساوی حقوق ہیں۔

50 لاکھ فلسطینی فوج کے زیرِ اثر مقبوضہ عہدوں پر رہتے ہیں جنھیں کوئی حقوق حاصل نہیں ہیں اور دوسری طرف پانچ لاکھ اسرائیلی نوآبادیاتی حقوق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے کے باوجود آج فلسطین میں دو طرح کے لوگ آباد ہیں۔

خالدی کا کہنا ہے کہ اس تنازع کو حل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دوسرا فریق ان کے قومی وجود کا ہی منکر ہے۔

فلسطینی معاشرہ کئی حصوں میں منقسم ہے۔ اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں 20 لاکھ فلسطینی آباد ہیں اور وہ 167 مختلف علاقوں میں رہتے ہیں۔ جبکہ تقریباً 20 لاکھ افراد غزہ میں رہتے ہیں۔

1948 اور 1967 کی جنگوں میں 50 لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور وہ علاقے کے مختلف کیمپوں میں مقیم ہیں۔

مغربی کنارے میں محمود عباس کی ایک غیر تسلیم شدہ حکومت ہے جو اسرائیل اور بین الاقوامی مدد پر انحصار کرتی ہے۔ غزہ میں سیاسی عسکری گروپ حماس کی انتظامیہ ہے جس کو قطر، ترکی اور ایران کی حمایت حاصل ہے۔

اسرائیل نے سنہ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں مغربی کنارے، گولان کی پہاڑیوں اور غزہ پر قبضہ کر لیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے بار بار مذمتی قراردادوں کے بعد، اسرائیل 2005 میں غزہ سے دستبردار ہو گیا۔

اسی دوران اسرائیل نے چار لاکھ 63 ہزار 353 افراد کو قریبی شہروں میں آباد کیا ہے۔ ان میں زیادہ تر مذہبی قوم پرست ہیں جنھوں نے کھیتوں اور آبی وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اسرائیل نے ان علاقوں میں فوج کی موجودگی میں اضافہ کیا اور مشرقی یروشلم میں تین لاکھ افراد کو آباد کیا۔

سنہ 1993 میں اوسلو معاہدے میں یہ طے ہوا کہ مغربی کنارے اور غزہ کے کچھ حصوں میں فلسطین کی اپنی حکومت ہو گی۔ اس کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ دونوں فریق مستقل حل کی طرف بڑھیں گے جس کے مطابق سنہ 1948 تک برطانوی حکومت کے زیر نگیں آنے والے فلسطین کے 22 فیصد حصے میں ایک ملک بنے گا جو کہ فلسطین کہلائے گا۔

لیکن اسرائیل کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس ملک میں ساری حکومتیں فلسطین کے مطالبات کے معاملے میں رخنہ ڈالتی ہیں تاکہ اوسلو معاہدے کو بھی ناکام بنا دیا جائے۔

ان مطالبات میں سنہ 1948 اور 1967 کی جنگوں میں بے گھر ہونے والوں کو واپسی کا حق، مشرقی یروشلم اور اس کے مقدس مقامات پر ان کا غلبہ، مغرب کنارے اور غزہ کی نوآبادیاتی سرگرمیوں پر روک ایک دفاعی نظام شامل ہیں۔

اسرائیل کے سرکاری نقطہ نظر سے فلسطینیوں کے مطالبات بہت زیادہ ہیں اور حقیقت پسندانہ نہیں ہیں۔ فلسطین کے مختلف دھڑوں کا ایک جیسا سیاسی موقف نہیں ہے اور بہت سی تنظیمیں دہشت گردی کا سہارا لیتی ہیں۔

دوسری طرف اوسلو معاہدے کا مقصد غیر واضح تھا اور اسرائیل کے امریکی حامیوں نے مزید رکاوٹیں پیدا کیں۔ فلسطین کبھی بھی ملک نہیں بن سکا۔ ادھر اسرائیل نے ’زمینی حقائق‘ کہہ کر مقبوضہ علاقوں کو نوآبادیات میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

اس کا رشتہ بائبل میں لکھی اس بات سے جوڑا گيا کہ خدا کے وعدے کے مطابق یہودیوں کو اس سرزمین پر آباد ہونے کا حق حاصل ہے۔

ایک طرف جہاں دو ملک بنانے کا خیال ناممکن معلوم ہوتا ہے اسرائیل اب یہودی اکثریت والے ملک میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے 92 لاکھ 27 ہزار 700 افراد میں سے 74 فیصد یہودی ہیں، اس کے علاوہ 19 لاکھ عرب اور تقریباً ساڑھے چار لاکھ غیر عرب عیسائی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مغربی کنارے میں بسنے والے قریب 20 لاکھ فلسطینیوں پر بھی اسرائیل کا کنٹرول ہے۔

سنہ 2020 میں بنیامن نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ وہ مغربی کنارے کے ایک تہائی حصے کو ملک میں ضم کر لیں گے۔ فی الوقت فلسطینی علاقوں کی سلامتی اسرائیل اور امریکہ کے تعاون سے فلسطین اتھارٹی کے پاس ہے۔

اگر اسرائیل نے مغربی کنارے کا ایک حصہ ضم کر لیا تو اسے فلسطین اتھارٹی کی جانب سے فراہم کردہ سکیورٹی اور دیگر عوامی خدمات سنبھالنا ہوں گی۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ کی طرف سے ترقی کے لیے فراہم کی جانے والی مدد بھی رک سکتی ہے۔

اگر اسرائیل نے مغربی ساحل پر الحاق کر لیا تو اس کے علاقے میں فلسطینیوں کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہو گا۔

اس کے بعد اگلا مرحلہ یہ ہو گا کہ تمام فلسطینیوں کو شہریت دی جانی چاہیے یا نہیں اور انھیں حق رائے دہی دی جائے یا نہیں۔

اگر وہ ایسا کرتا ہے تو انتخابات میں ان کا کردار اہم ہو جائے گا۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو اسے جمہوری ملک نہیں کہا جائے گا۔ اسرائیل بنانے والے یہودی ایک جمہوری ملک بنانا چاہتے تھے۔ بغیر حقوق یا محدود حقوق والے فلسطینیوں کے ساتھ یہ ایک نسل پرست ملک بن جائے گا جیسا کبھی جنوبی افریقہ تھا۔

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل بھی اسی سمت میں گامزن ہے۔

فلسطینی حقوق کے لیے امریکی مہم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوسف منیار تو یہاں تک مانتے ہیں کہ فلسطینی آبادیوں کا کچلا جانا اور ان کا نوآبادیاتی عمل ایک ایسی حقیقت ہے جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق سوال یہ نہیں ہے کہ صرف ایک ہی ملک ہونا چاہیے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ کیا ابھی بھی ایسا ہو سکتا ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ نسل پرست حکومت ہو گی یا وہ جو فلسطینیوں کی برابری کو قانون کے سامنے تسلیم کرے گی۔

سنہ 2019 میں کیے گئے رائے عامہ کے سروے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم آدھے افراد اسرائیلی اتحاد یا ریاست کے الحاق کی حمایت کرتے ہیں۔ اس میں سے 63 فیصد دائیں بازو کے ووٹر ہیں۔ لیکن زیادہ تر فلسطینیوں کو مساوی حقوق دینے کے خلاف ہیں۔ سروے کرنے والوں میں سے ایک تہائی نے یہ بھی مانا کہ ان لوگوں کو کسی اور جگہ بھیجا جانا چاہیے۔

ربی آریے مائر نے سنہ 2019 میں دعویٰ کیا تھا کہ اگرچہ دو قومی راستہ مکمل طور پر درست نہیں ہو سکتا لیکن کم از کم ایک اسرائیل بنایا جائے گا جو یہودی جمہوریت ہو گا اور محفوظ ہو گا۔

’ریاست میں ضم ہونے سے بالآخر دو قومیں تشکیل پائیں گی جن میں سے ایک نسل پرست ہو گی اور اس سے یہودی ملک کا خواب ختم ہو جائے گا۔‘

تحریر: ماریانو ایگویر

بشکریہ بی بی سی نیوز

Next Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ٹوئیٹر پر فالو کریں

فیس بک پر فالو کریں