(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) آج صبح صہیونی سفاک آبادکاروں کے جتھے قابض اسرائیل کی فوجی سرپرستی میں قبلہ اول کے مقدس صحنوں میں داخل ہوئے اور وہاں کھلے عام تلمودی رسومات اور اشتعال انگیز مذہبی طقوس ادا کیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق درجنوں صہیونی آبادکار گروپوں کی شکل میں مسجد اقصیٰ میں گھسے اور ان کے ہمراہ آنے والے صہیونی ربیوں نے نام نہاد ہیکل کے بارے میں انہیں لیکچر دیے۔ یہ تمام تر اشتعال انگیز کارروائیاں قابض اسرائیل کی بھاری مسلح فوج کی مکمل حفاظت میں ہوئیں۔
اسی دوران قابض فوج نے مسجد اقصیٰ کے دروازوں پر سخت ترین فوجی رکاوٹیں کھڑی کر دیں، پرانے شہر میں کرفیو نما فضا قائم کی اور نماز کے لیے آنے والے مسلمانوں کو ہراساں کر کے انہیں زبردست پابندیوں کا نشانہ بنایا۔
القدس کی مقامی قیادت اور فلسطینی عوام نے ایک بار پھر بیت المقدس کے شہریوں اور فلسطین کے دیگر علاقوں سے مسلمانوں کو اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں مسجد اقصیٰ کا رخ کریں، وہاں پہرہ دیں اور قابض اسرائیل اور اس کے غاصب آبادکاروں کی ناپاک سازشوں کو ناکام بنائیں۔
ان اپیلوں میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ اہل قدس بڑی تعداد میں مسجد اقصیٰ میں حاضر ہو کر صلوات قائم کریں تاکہ قابض اسرائیل کی اس سازش کو توڑا جا سکے جس کا مقصد مسجد کو اس کے عوامی اور مذہبی حلقوں سے کاٹ کر تنہا کرنا ہے۔
فلسطینی کارکنوں اور رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ اس نازک مرحلے پر مسجد اقصیٰ میں رباط اور حاضری فلسطینی عوام کے اجتماعی صبر و ثبات کی علامت ہے اور یہ ایک دو ٹوک پیغام ہے کہ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا سرخ خط ہے جسے کسی صورت پار نہیں کیا جا سکتا۔
اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی دفتر کے رکن اور شعبہ امور قدس کے سربراہ ہارون ناصرالدین نے کہا کہ صہیونی آبادکاروں کی جانب سے بڑھتے ہوئے یہ حملے اور ناپاک رسومات دراصل ناکام کوشش ہے کہ زمینی حقائق بدلے جائیں، مسجد اقصیٰ پر مکمل قبضہ کیا جائے اور پورے بیت المقدس کو ناجائز صہیونی قبضے کو منصوبہ عملی جامہ پہنایا جائے۔