(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی پولیس نے ایک اور سنگین اقدام کرتے ہوئے فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس کے مفتیِ اعظم الشیخ محمد حسین کو مسجد اقصیٰ سے چھ ماہ کے لیے جبری طور پر بے دخل کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔
القدس گورنری کے مطابق مفتی اعظم کی آٹھ روزہ جبری بے دخلی کی مدت ختم ہونے پر قابض پولیس نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت ان پر مزید چھ ماہ کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ اقدام مفتی شیخ محمد حسین کے اس خطبہ جمعہ کے بعد کیا گیا جس میں انہوں نے غزہ کے عوام کے خلاف جاری قحط کی پالیسی، امداد کی بندش اور محاصرے کی شدید مذمت کی تھی۔ اسی حق گوئی کی پاداش میں انہیں پہلے ایک ہفتے کے لیے بے دخل کیا گیا تھا اور اب اس مدت میں چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔
قابض اسرائیل کا یہ اقدام نہ صرف مذہبی آزادی پر کھلا حملہ ہے بلکہ یہ فلسطینی شناخت اور مقدسات کو مٹانے کی منظم کوششوں کا حصہ ہے۔ ایک اعلیٰ ترین مذہبی رہنما کو مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام سے دور رکھنا، عالمی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی اور فلسطینی قوم کی دینی و قومی قیادت کو خوفزدہ کرنے کی ایک بزدلانہ کوشش ہے۔
روزنامہ قدس ا س سفاکانہ کارروائی کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ پر غاصب ظالمانہ صہیونی بربریت اور اسلامی شخصیات کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا فوری نوٹس لے۔