(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) الخلیل کے محکمہ اوقاف نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ قابض صہیونی حکومت نے مسلسل آٹھویں دن بھی مسجد ابراہیمی میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کر رکھی ۔ اس دوران غاصب فوج نے گزشتہ جمعہ سے شروع ہونے والے ایران پر قابض ریاست کے حملے کے بعد سے پورے مغربی کنارے پر محاصرہ مزید سخت کر دیا ہے۔
محکمہ اوقاف الخلیل کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قابض اسرائیل کی فوج مسجد ابراہیمی کو مسلسل آٹھویں دن بند رکھے ہوئے ہے اور نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مسجد ابراہیمی قدیم الخلیل کے علاقے میں واقع ہے جو مکمل طور پر غاصب حکومت کے تسلط میں ہے۔ اس علاقے میں تقریباً چار سو صہیونی آباد ہیں جن کی حفاظت کے لیے پندرہ سو قابض فوجی تعینات ہیں۔
1994ء میں قابض اسرائیل نے اس مسجد کے تیراسٹھ فیصد حصے کو صہیونیوں کے لیے اور سینتیس فیصد حصے کو مسلمانوں کے لیے تقسیم کر دیا تھا جس کے بعد ایک صہیونی آبادکار کی جانب سے کیے گئے وحشیانہ حملے میں اُنتیس فلسطینی نمازی شہید ہو گئے تھے۔
تیرہ جون سے قابض اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گیے کے جواب میں ایران نے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اسرائیل کی سرزمین پر جوابی حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
صہیونی حکومت کے تازہ ترین تخمینے کے مطابق غاصب فوجی حملوں میں پچیس افراد ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ تل ابیب کے ہسپتالوں میں زخمیوں کی تعداد دو ہزار پانچ سو سترہ تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے اکیس کی حالت تشویشناک اور ایک سو تین کی حالت متوسط ہے۔ تاہم مروجہ صہیونی پالیسی کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو۔