یمن و مراکش میں لاکھوں افراد کا غزہ نسل کشی و قحط کے خلاف احتجاج
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ دو ملین سے زائد فلسطینیوں پر مسلط کی گئی اس سفاکیت کو فوری طور پر روکا جائے اور محصورین تک امداد پہنچانے کی راہ ہموار کی جائے۔
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) گذشتہ روز یمن اور مراکش میں لاکھوں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور غزہ کے مظلوم فلسطینی عوام پر قابض اسرائیل کی مسلط کردہ نسل کشی اور قحط کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ دو ملین سے زائد فلسطینیوں پر مسلط کی گئی اس سفاکیت کو فوری طور پر روکا جائے اور محصورین تک امداد پہنچانے کی راہ ہموار کی جائے۔
یمن کے دارالحکومت صنعاء میں نماز جمعہ کے بعد میدان السبعین میں لاکھوں افراد نے ’’ملیونیہ مع غزہ جہاد و ثبات‘‘ کے عنوان سے عظیم الشان اجتماع کیا۔ عوام نے خونِ فلسطین کے ناحق بہائے جانے اور مقدسات کی بے حرمتی پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
صنعاء میں مظاہرین نے قابض اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ غزہ پر مسلط کردہ درندگی اور قحط کو فوری طور پر ختم کیا جائے، انسانی و طبی امداد غزہ پہنچائی جائے اور صنعاء پر صہیونی حملوں کا جواب دیا جائے۔
مظاہرے کی منتظم کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ احتجاج صہیونی دشمن کے لیے ایک کھلا چیلنج اور صنعاء پر جارحیت کے خلاف عوامی ردعمل ہے۔ کمیٹی نے اعلان کیا کہ یمنی عوام ہمیشہ کی طرح غزہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اس نصب العین سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یہ احتجاج یمن اور مراکش کے عوام کے دلوں میں فلسطین سے والہانہ محبت اور صہیونی نسل کشی کے خلاف نفرت کی واضح تصویر ہے۔ مسلمان عوام نے ایک بار پھر دنیا کو باور کرایا کہ وہ ہر حال میں فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں اور قابض اسرائیل کے جنگی جرائم کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔