غزہ پر قبضے کے منصوبے ظالم صہیونی قیادت کے لیے تباہ کن ہوں گے: ابو عبیدہ
القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ پر قبضہ کرنے کے دشمن کے مجرمانہ منصوبے اس کی سیاسی اور فوجی قیادت کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے عسکری ونگ، القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ پر قبضہ کرنے کے دشمن کے مجرمانہ منصوبے اس کی سیاسی اور فوجی قیادت کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی فوج کو اپنے فوجیوں کے خون کی قیمت ادا کرنی پڑے گی اور اس سے اللہ کے فضل سے مزید نئے فوجیوں کے پکڑے جانے کے امکانات بڑھیں گے۔
ابو عبیدہ نے جمعہ کی شام ٹیلیگرام پر اپنے چینل کے ذریعے جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہاکہ ہمارے مجاہدین انتہائی چوکس، تیار اور بلند حوصلے کے ساتھ ہیں اور وہ بہادری و شجاعت کی نادر مثالیں قائم کریں گے اور اللہ کی مدد سے حملہ آوروں کو سخت سبق سکھائیں گے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگی مجرم بنجمن نیتن یاہو اور اس کے نازی وزراء نے جان بوجھ کر زندہ دشمن قیدیوں کی تعداد کو آدھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ کہ ان کے مرنے والے قیدیوں کی زیادہ تر لاشیں ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی جس کی پوری ذمہ داری قابض اسرائیلی فوج اور اس کی دہشت گرد حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق دشمن کے قیدیوں کی حفاظت کریں گے اور وہ ہمارے مجاہدین کے ساتھ جنگ اور تصادم کے مقامات پر انہی خطرات اور حالات میں ہوں گے اور ہم ہر اس قیدی کا نام، تصویر اور اس کی موت کا ثبوت فراہم کریں گے جو جارحیت کی وجہ سے مارا جائے گا۔
یاد رہے کہ قابض حکومت کی سکیورٹی کونسل نے آٹھ اگست کو ایک قرارداد منظور کی تھی اور اس کے تین دن بعد اس نے الزیتون محلے پر ایک بڑے پیمانے پر حملہ شروع کیا جو غزہ شہر کے جنوب میں الصبرہ محلے تک پھیل گیا اور شہر کے مشرق اور شمال تک بھی پہنچ گیا۔ اس حملے میں شدید فضائی بمباری، دھماکہ خیز روبوٹس کے ذریعے سینکڑوں گھروں کی تباہی اور فضائی حملوں کے ساتھ غیر قانونی انخلاء کے احکامات میں اضافہ شامل تھا۔