(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران غذائی قلت کے باعث مزید دو فلسطینی شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا ہے۔وزارتِ صحت نے واضح کیا کہ اس المناک قحط زدہ جنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر دو سو تہتر ہو گئی ہے جن میں ایک سو بارہ معصوم بچے شامل ہیں۔
قابض اسرائیل نے نہ صرف نسل کشی کی جنگ مسلط کی ہوئی ہے بلکہ غزہ میں باقاعدہ طور پر قحط کی ایک منظم جنگ بھی چھیڑ رکھی ہے۔ گذشتہ پانچ ماہ سے قابض فوج نے غزہ کی تمام سرحدیںمکمل طور پر بند کر رکھی ہیں جس کے نتیجے میں شہریوں کی زندگیاں اجیرن ہو گئی ہیں۔
یہ انسانیت سوز جرم دراصل اجتماعی سزا اور اجتماعی قتلِ عام کا ایک بھیانک باب ہے جو قابض اسرائیل کی درندگی اور فلسطینی قوم کے خلاف اس کی جنگی سازشوں کو بے نقاب کرتا ہے۔