(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) دنیا کے سب سے بڑے عالمی بحری بیڑے ’’الصمود فلوٹیلا‘‘ کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ بیڑے کے تمام شرکاء نے ہر ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت حاصل کر لی ہے اور وہ کل بروز اتوار اسپین سے غزہ کے لیے روانگی کی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں۔
یہ عظیم عالمی بحری کارواں قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط وحشیانہ محاصرہ توڑنے اور فلسطینی عوام تک انسانی ہمدردی کا پیغام پہنچانے کے لیے ایک نیا عالمی اقدام ہے۔ اس بیڑے میں شریک کارکنان نے عالمی برادری اور حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ یہ بیڑہ بحفاظت غزہ کی پٹی تک پہنچ سکے جہاں گذشتہ دو برس سے قابض ریاست قتلِ عام، تباہی اور قحط کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
اس بیڑے میں چوالیس ممالک کے سرگرم کارکن شامل ہیں۔ کمیٹی کے ترجمان نے اسپین کی حکومت کے اس موقف کو سراہا ہے جس نے غزہ کے عوام کی حمایت اور بیڑے کے حق میں اپنے اصولی موقف کا اظہار کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ شرکاء کو اس لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے کیونکہ ماضی میں قابض اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں سے غزہ جانے والی کئی کشتیوں کو اغوا کر لیا تھا۔
بیڑے میں شامل نمایاں شخصیات میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریتا تھونبرگ بھی شامل ہیں جو گذشتہ جون میں جہاز میڈلین پر سوار ہو کر غزہ کا محاصرہ توڑنے کی ایک کوشش میں شریک ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ پرتگال کی معروف بائیں بازو کی سیاستدان ماریانا مورتگوا بھی اس کارواں کا حصہ ہیں۔
فلسطینی کارکن اور منتظمین میں شامل سیف ابو کشک نے بارسلونا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب گیند عالمی سیاستدانوں کے کورٹ میں ہے انہیں چاہیے کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ انسانی حقوق کا دفاع ہو سکے اور یہ بیڑہ بحفاظت غزہ تک پہنچ سکے۔
اسطول الصمود کو غزہ کا محاصرہ توڑنے کی تاریخ کا سب سے بڑا عالمی بحری اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بیڑہ تقریباً ستر کشتیوں پر مشتمل ہے جو دو مرکزی بندرگاہوں سے روانہ ہو گا۔ پہلا قافلہ اکتیس اگست کو بارسلونا سے اور دوسرا چار ستمبر کو تیونس سے غزہ کی طرف روانہ ہو گا۔
اس عظیم عالمی تحریک میں ’’الحراک العالمی نحو غزہ‘‘، ’’مناضلون من اسطول الحریہ‘‘، ’’اسطول الصمود المغاربی‘‘ اور ’’اسطول المبادرة الشرق آسيوية‘‘ شامل ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کارواں کا مقصد صرف ظالمانہ محاصرہ توڑنا نہیں بلکہ دنیا بھر کے آزاد انسانوں کو براہ راست اقدام میں شریک کر کے فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنا اور غزہ میں جاری قتلِ عام اور نسل کشی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا بھی ہے۔ ساتھ ہی یہ بیڑہ فلسطینی عوام کے لیے علامتی طور پر کچھ انسانی امداد بھی لے کر جا رہا ہے۔
قابض اسرائیل نے امریکہ کی پشت پناہی سے ساتھ اکتوبر 2023ء سے غزہ کے خلاف کھلی نسل کشی اور درندگی پر مبنی جنگ مسلط کر رکھی ہے جس میں قتل و غارت، تباہی، جبری ہجرت اور بھوک کو ہتھیار بنایا گیا ہے۔ قابض ریاست عالمی مطالبات اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو بھی پامال کر رہی ہے۔
غزہ کی وزارت ِصحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں اب تک تیراسٹھ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ انسٹھ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ بھوک اور قحط کے نتیجے میں مزید تین سو بتیس فلسطینی شہید ہوئے ہیں جن میں ایک سو اکیس معصوم بچے بھی شامل ہیں۔