(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یورپی ملک سلووینیا کی حکومت نے اپنے ہی اعلان کردہ ہتھیاروں کی برآمد پر مبینہ پابندی کے باوجود قابض اسرائیل کو ایک فوجی کارگو جہاز منتقل کرنے کی اجازت دی۔ یہ کارگو بندرگاہ کوپر سے روانہ ہوا حالانکہ حکومت سلووینیا نے قابض اسرائیل کو اسلحے اور فوجی ساز و سامان کی ترسیل پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں قابض اسرائیلی فوج کی جنگی جارحیت بدستور جاری ہے اور قابض اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات بڑھتے جا رہے ہیں۔
سلووینیا کی حکومت نے اکتیس جولائی کو اعلان کیا تھا کہ قابض اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد اور ترسیل مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب یورپی یونین غزہ میں قابض اسرائیل کے جرائم روکنے کے لیے کوئی عملی اقدام کرنے میں ناکام رہا۔ تاہم ایمنسٹی کی تحقیق اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ساتھ اگست کو زیم نیوزی لینڈ نامی بحری جہاز پر الیکٹریکل مشینری اور فوجی مواد پر مشتمل کارگو روانہ کیا گیا جو براہ راست بندرگاہ حیفا کے لیے تھا۔ یہ ترسیل پابندی کے نفاذ کے صرف چند دن بعد عمل میں آئی۔
ایمنسٹی کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر برائے ریسرچ و پالیسی ایریکا جیفارا-روساس نے کہا کہ صرف ایک ہفتے بعد ہی اسلحے کی ترسیل کی اجازت دینا اس بات پر شدید سوالیہ نشان ہے کہ آیا سلووینیا بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ بھی ہے یا نہیں۔
ایمنسٹی نے خبردار کیا کہ یہ کارگو براہ راست غزہ کے شہریوں کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی میں استعمال ہو سکتا ہے کیونکہ قابض اسرائیل مسلسل رہائشی آبادیوں پر بمباری کر رہا ہے اور انسان دوست امداد کو روک رہا ہے۔