(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) کے کمشنر جنرل فلیپ لازارینی نے کہا ہے کہ شمالی غزہ میں اعلان کردہ قحط دراصل قابض اسرائیل کی ایک سوچی سمجھی اور منظم سازش ہے۔
لازارینی نے اپنے بیان میں کہا کہ غذائی سلامتی کے بین الاقوامی ادارے کے اعداد و شمار نے وسط اگست سے غزہ شہر میں قحط کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہینوں سے جاری انتباہات کے باوجود دنیا نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا اور اب یہ حقیقت ہے کہ غزہ کو جان بوجھ کر قابض اسرائیلی حکومت نے قحط میں دھکیل دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سنگین صورتحال براہِ راست اس پالیسی کا نتیجہ ہے جس کے تحت قابض اسرائیل نے کئی ماہ سے خوراک اور بنیادی اشیائے ضرورت غزہ میں داخل ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے حتیٰ کہ انروا جیسی انسانی ہمدردی کی تنظیموں کی سپلائیز کو بھی روکا گیا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ قحط کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے بشرطیکہ فوری فائر بندی کی جائے اور انسانی ہمدردی کے اداروں کو اپنا کام کرنے اور بھوک سے شہید ہونے والے فلسطینیوں تک رسائی کی اجازت دی جائے۔ لازارینی نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ یہ لمحہ سیاسی عزم کا تقاضا کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں ایک لاکھ بتیس ہزار سے زائد پانچ سال سے کم عمر کے بچے شدید غذائی قلت کے باعث موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔