(روزنامہ قدس ۔آن لائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صہیونی ریاست اسرائیل میں ہر بالغ مرد و خاتون پر لازمی ہےکہ وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار فوج میں شمولیت اختیار کرکے نہ صرف جنگی تربیت حاصل کرے گا بلکہ وہ وطن سے محبت کو بھی قریب سے سیکھے گا تاہم نئی نسل کے کچھ یہودی نوجوان ایسے بھی ہیں جو فلسطینیوں کے خلاف ریاست کی پرتشدد، انسانیت سوز اور عدم مساوات پالیسیوں کی وجہ سے فوج کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔
اسرائیلی فوج میں شمولیت سے انکار کی صورت میں ایسے افراد کو باغی قرار دیا جاتا ہے جن کوجیل جانے سمیت دیگر طرح کی سزائیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تاہم گذشتہ چند سالوں میں ایسے افراد میں اضافہ دیکھنےمیں آیا ہے جنہوں نے اسرائیلی عدم مساوات اور انسانیت سوز پالیسیز کے خلاف جیل جانا پسند کرتے ہیں لیکن صہیونی آرمی میں شمولیت نہیں اختیار کرتے ۔
فلسطین پر قابض صہیونی ریاست اسرائیل کے شہر تل ابیب کی رہائشی 19 سالہ شاہر پریٹس اور 19 سالہ ایرن اویو نے بھی اسرائیلی فوج کو قاتل اور جنگی مجرم قرار دیتے ہوئے فوج میں شمولیت سے انکار کردیا۔
واضح رہے کہ ان سے قبل ہیلل رابن نے اگست 2020 میں اسرائیلی فوج میں شمولیت سے انکار کرنے کے بعد صہیونی فوج کے ہاتھوں گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا تھاجہاں ان کو 56 دنو ں تک قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
