(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ ) صہیونی جیل جلبوع میں کم سے کم 132 فلسطینی کرونا کا شکا ہوچکے ہیں مگر صہیونی جیلر اور حکومت کورونا وائرس کا شکار ہونے والے قیدیوں کے علاج معالجے اور ان کی طبی امداد کے حوالے سے مجرمانہ لا پرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم واعد کی جانب سے صہیونی جیلوں میں کوروناوائرس کا شکار ہونے والے فلسطینیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی قیدی کورونا وائرس کا شکار ہونے کے باوجود قتل گاہوں کی طرز کے زندانوں میں پابند سلاسل ہیں اور انہیں کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینی قیدی مشکلات کا شکار ہیں انکی مشکلات کے حوالے سے عرب اور مسلمان ممالک کے ساتھ ساتھ تمام عالمی برادری فلسطینی اسیران کے مسائل بالخصوص کورونا وائرس کا شکار ہونے والے قیدیوں کی زندگیاں بچانے کےلیے اپنا کردار ادا کریں۔
اسرائیل کی جیل جلبوع میں کم سے کم 132 فلسطینی کرونا کا شکا ہوچکے ہیں مگر صہیونی جیلر اور حکومت کرونا کا شکار ہونے والے قیدیوں کے علاج معالجے اور ان کی طبی امداد کے حوالے سے مجرمانہ لا پرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
واضح رہےکہ انسانی حقوق کی تنظیم نے اپیل کی ہے کہ بین الاقوامی طبی ٹیموں کو صہیونی جیلوں میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے قیدیوں تک رسائی دی جائے تاکہ قیدیوں کی زندگیاں بچانے میں ان کی مدد کی جاسکے۔
