• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
اتوار 3 مئی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

صیہونی جیلوں میں 7 ہزار فلسطینی بچے قید ہیں، انسانی حقوق کمیشن

جمعہ 30-08-2019
in خاص خبریں, صیہونیزم
0
صیہونی جیلوں میں 7 ہزار فلسطینی بچے قید ہیں، انسانی حقوق کمیشن
0
SHARES
5
VIEWS

 (روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ ) اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشن کے ترجمان کے مطابق  اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدی بچوں کی تعداد میں اضافہ غیرمعمولی اضافہ المیہ ہے ۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشن کے ترجمان نے اسرا‎ئیلی جیل خانہ جات  سے جاری کئے گئے اعداد و شمار کی روشنی میں کہا ہے کہ اسوقت صیہونی جیلوں میں  سات ہزار فلسطینی معصوم بچے جن کی عمریں 9 سے 14 برس کے درمیان ہیں قید ہیں  جبکہ  سیکڑوں  کو بغیر جرم کے جیلوں میں قید رکھنے کے بعد بدترین تشدد کر کے چھوڑ دیاگیا ہے ۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غاصب اسرائیلی افواج ہر ماہ سات سو سے زائد فلسطینی بچوں کو گرفتار کرتے ہیں اوران کو قید میں رکھا جاتا ہے۔

Image result for israeli soldiers arrest youth

غاصب صہیونی افواج رات گئے فلسطینیوں کے گھروں پر چھاپہ مارتے ہیں اور گھروں میں موجود معصوم بچوں کو جبراً گرفتار کرکے ان کو اپنے ساتھ زیادہ ترنامعلوم مقام پر لے جاتے ہیں۔ گرفتاری کے وقت بچوں کے چہروں پر کپڑا ڈال دیا جاتا ہے یا ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے جب کہ ان کے ہاتھ پشت کی طرف آہنی زنجیروں سے باندھ کر ان کو اپنی گاڑیوں میں بٹھا کر جیلوں میں لے جایا جاتا ہے۔

ایک فلسطینی بچے طاہر ماعود نے بتایا ہے کہ جب تک ان کو گاڑی میں سوار رکھا جاتا ہے اسرائیلی فوجی ان کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور گھونسوں اور لاتوں کی بارش جاری رہتی ہے تا حد یہ کہ گاڑی جیل تک نہ پہنچ جائے اس دوران اسرائیلی فوج اور پولیس کی جانب سے تضحیک آمیز جملوں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

فلسطین میں صیہونی زندانوں میں اسیروں کی تفصیلات رکھنے والے ادارے نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد فلسطینی قیدیوں کو تحقیقات کیلئے انویسٹی گیشن سینٹر پر لایا جاتا ہے اور چوبیس گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ دیر تک بچوں کو بغیر خوارک، پانی اور ضروری چیزوں کے رکھا جاتا ہے اور تفتیش کا طریقہ بھی انتہائی سخت رکھا جاتا ہے جس میں بائیس بائیس گھنٹے لگاتار بچوں کو جگائے رکھنا اور مختلف طریقوں سے ڈرا دھمکا کر تفتیش کرنا شامل ہے۔

اسرائیلی قید میں بچوں کو موت کی دھمکی سمیت جنسی ہراساں بھی کیا جاتا ہے جب کہ غاصب اسرائیلی افواج کی جانب سے پابند ی عائد کی گئی ہے کہ گرفتار کیے گئے بچے اپنے لیے کسی وکیل کا بندوبست بھی نہیں کر سکتے ہیں۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اسرائیلی درندوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے اکثر بچے دوران تفتیش اپنا جرم قبول کر لیتے ہیں، ان بچوں کے جرم میں اسرائیلی فوجیوں کی طرف پتھر پھینکنا ہوتا ہے۔ ان بچوں سے ایسے معاہدوں پر دستخط کروائے جاتے ہیں جو اسرئیلی سرکاری زبان ’’ہیبریوعبرانی ‘‘ میں لکھے جاتے ہیں جو کہ بچے سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بچوں پر ہونے والے اسرائیلی مظالم انتہائی سنگین اور وحشت ناک ہوتے ہیں جو قید و بند کے دوران ان پر روا رکھے جاتے ہیں۔ان بچوں کو سخت سے سخت سزائوں کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

Tags: 7 ہزار فلسطینی بچے قیدانسانی حقوق کے  ہائی کمشنبچوں کو موت کی دھمکی
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.