(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ ) لبنانی اراکین پارلیمنٹ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے خلاف جاری نسل پرستانہ اشتعال انگیزی کو یکسرمسترد کردیاہے۔ ان کا کہناہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے معاملے میں امتیازی سلوک سے لبنانی معاشرہ انتشار کا شکار ہوسکتا ہے۔ حکومت کو فلسطینی پناہ گزینوں کے معاملے کونظرانداز کرنے کے بجائے ان کے معاشی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق لبنان کی مختلف مذہبی اورسیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کا ایک مشاورتی اجلاس رکن پارلیمنٹ عمر کرامی کے گھر پرہوا منعقد کیا گیا، اجلاس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے خلاف منظور کردہ لیبر قانون اور اس کے مضمرات پرغور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے لبنانی رکن پارلیمنٹ فیصل کرامی نے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ پڑھ کرسنایا۔
اعلامیہ کے مطابق لبنانی اراکین پارلیمنٹ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے خلاف جاری نسل پرستانہ اشتعال انگیزی کویکسرمسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے معاملے میں امتیازی سلوک سے لبنانی معاشرہ انتشار کا شکار ہوسکتا ہے، اجلاس میں صدر جمہوریہ عماد میشل عون کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کے معاملے کو عدالت کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں کو سراہا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں لبنانی وزیر لیبر نے ایک نیا قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت فلسطینی پناہ گزینوں اور دوسرے غیرملکی شہریوں کے لبنان میں روزگار پرپابندی لگا دی گئی ہے۔ لبنانی وزیر نے فلسطینیوں سمیت تمام پناہ گزینوں کو غیرقانونی تارکین وطن قرار دیا ہے۔ ان کےاس اقدام کے خلاف فلسطینی پناہ گزین سراپا احتجاج ہیں۔
