• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

"عرب ممالک کی مجوزہ ‘ہمسایہ لیگ’ میں اسرائیل کے لئے کوئی جگہ نہیں”

ہفتہ 10-04-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_amr-mousa-the-arab-league-secretary-general8

عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری عمرو موسی نے کہا ہے کہ عربوں کے ہمسایہ ممالک کی مجوزہ انجمن میں ایرانی شمولیت سے متعلق چند عرب ملکوں کے تحفظات کی وجہ دراصل تہران کی ہنگامی نوعیت کی پالیسیوں کی عدم وضاحت ہے۔

عمرو موسی نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی عالمی امن پر اثر انداز ہونے والی سیاسی پالسیوں میں عراق کے اندر شیعہ، سنی مسئلے سے پیدا ہونے والے مسائل، متحدہ عرب امارات کے جزائر پر تہران کا قبضہ، حوثیوں کا مسئلہ اور تہران کے بحرین کے بارے میں ارادے ایسے امور ہیں کہ جن کی وجہ سے بعض عرب ممالک ایران کو اس مجوزہ ‘ہمسایہ لیگ’ میں شامل کرنے کے بارے میں متردد ہیں۔”ہمسایہ لیگ” کی تشکیل کے بارے میں تجویز لیبیا کے شہر سرت میں ہونے والے حالیہ عرب سربراہی اجلاس میں پیش کی گئی تھی۔

عمرو موسی کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے بھی عرب ملک بعض تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ دوسروں کے بجائے عربوں کو اس پروگرام سے متعلق زیادہ تشویش ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران سے مذاکرات ہونے چاہیں۔

عمرو موسی نے مزید بتایا کہ وہ اس سال کے آخر میں عرب لیگ کے غیر معمولی اجلاس کے موقع پر عربوں کے ہمسایہ ملکوں پر مشتمل ‘ہمسایہ لیگ’ کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں گے۔ اس انجمن کی تجویز لیبیا میں ہونے والے عرب سربراہی اجلاس کے موقع پر پیش کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اور مصر نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔

اسرائیل کے لئے کوئی جگہ نہیں

عمرو موسی نے بتایا کہ ترکی اپنی قابل قبول اور لچکدار پالسیوں کی وجہ سے پہلا ملک ہے جس نے مجوزہ انجمن کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ انقرہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ‘ہمسایہ لیگ’ کے معاشی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے آٹھ سو ملین افراد مستفید ہو سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس مجوزہ تنظیم میں اسرائیل کی شرکت کا اس وقت تک کوئی امکان نہیں جب تک وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے عرب امن عمل پر عملدرآمد نہیں کرتا۔ عمرو موسی نے کہا کہ اسرائیل نے ابتک امن مذاکرات کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا بلکہ اس کے بجائے وہ اپنی اشتعال انگیز کارروائیوں کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کو چیلنج کر رہا ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.