• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

انسانی اعضاء کی چوری کے الزام میں اسرائیلی پولیس افسر گرفتار

جمعرات 08-04-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_israeli-police-officer-arrested

مقبوضہ فلسطین میں ایک صہیونی پولیس افسر کو گرفتار کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ انسانی اعضاء کی چوری میں ملوث عالمی صہیونی گروہ کے ساتھ اس گھناؤنے جرم میں ان کی معاونت کرتا رہا ہے۔

اس گرفتاری کے بعد سوئٹرز لینڈ میں گذشتہ برس صحافی ڈونلڈ بوسٹرم کی اس رپورٹ کی مزید تصدیق ہوتی ہے جس میں ڈونلڈ نے انکشاف کیا تھا کہ صہیونی فوجی اور دیگر افراد فلسطینی شہداء کے اعضاء کی دنیا بھر میں فروخت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی پولیس ذرائع کے مطابق حکام نے بدھ کے روز مقبوضہ فلسطین کے شہر ناصرہ سے بھکارن کے روپ میں ایک خاتون کو حراست میں لیا،جس کی تلاشی کے دوران اس سے گردے برآمد ہوئے جس پر اس سے مزید تفیش کی گئی، تفتیش کے دوران اس نے گردوں کی فروخت کے گروہ کا انکشاف کیا، جس میں ایک اعلیٰ سطح کا پولیس افسر بھی شامل ہے۔ حکام نے اس کی نشاندہی پر پولیس افسر کو بھی حراست میں لے لیا جس سے مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

تحقیقات کے دوران مزید انکشاف ہوا ہے کہ گردوں کی فروخت کے دھندے میں ملوث افراد 100 سے 120 ڈالر میں فی گردہ فروخت کرتے ہیں، گردوں کی فروخت کے لیے یورپی اخبارات میں باقاعدہ اشتہارات شائع کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ انسانی اعضاء کی غیرقانونی فروخت کا معاملہ گذشتہ برس اس وقت طوفان کی طرح اٹھ کھڑا ہوا ہے جب سوئٹرز لینڈ کے ایک صحافی نے انکشاف کیا کی اسرائیلی فوجی اور دیگر صہیونی عہدیدار فلسطینی شہداء کے اعضاء کویورپ سمیت دنیا کے دیگرممالک میں فروخت کر رہے ہیں۔ اس گھناؤنے جرم کے انکشاف کے بعد اسرائیل میں اس کی چھان کے لیے تحقیقات ہوئی ہیں تاہم اس میں کوئی قابل ذکرپیش رفت نہیں ہو سکی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلیوں کی جانب سے انسانی اعضاء کی غیر قانونی فروخت 1960 سے جاری ہے جبکہ سب سے زیادہ اعضاء کی فروخت تحریک انتفاضہ اولیٰ کے دوران ہزاروں فلسطینیوں کی صہیونی فوجیوں کی ہاتھوں شہادت کے دوران سامنے آئی تھی۔ اس دوران قابض صہیونی فوج نے چھ ہزار سے زائد شہریوں کو شہید کر دیا تھا۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.