• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

الخلیل میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان جھڑپیں

ہفتہ 27-02-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

protest-ibrahimi-mosque1 مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں واقع مسجد ابراہیمی کو اسرائیلی تاریخی ورثہ قرار دینے کے اعلان کے بعد فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی شہریوں کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہو گیا۔ مقبوضہ علاقوں سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق ایک سو سے زائد مظاہرین نے مسجد ابراہیمی کا محاصرہ کرنے والے صہیونی فوجیوں پر پتھراو کیا جس کے جواب میں اسرائیلیوں فوجیوں نے اشک آور گیس اور ربڑ کی گولیاں فائر کیں۔ اس موقع پر مظاہرہ کرنے والے چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان نے اعلان کیا کہ الخلیل کی متعدد کالونیوں سے اجتجاجی جلوس بغیر اجازت نکالے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور انہیں منشتر کرنے کے لئے تعنیات کردہ فوجی دستوں پر بعض مظاہرین نے پتھروں اور پٹرول بموں سے حملہ کیا۔ الخلیل شہر میں حالیہ گشیدگی اس وقت عروج کو پہنچی کہ جب فلسطینی مسلمان سولہ برس قبل انتہا پسند یہودی باروخ گولڈ اسٹائن کے ہاتھوں مسجد ابراہیمی میں ستر سے زائد نمازیوں کی دوران نماز شہادت کے دلخراش واقعے کی سولہویں برسی منا رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے مسجد ابراہیمی اور قبر راحیل کو اسرائیل کے تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کے اعلان کے بعد سے الخلیل میں وقفے وقفے سے اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کے ضمن میں نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ حرم ابراہیمی اور قبر راحیل کا اسٹیٹس کبھی تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ فلسطینی اتھارٹی اور حماس کے زیر نگین غزہ میں اسماعیل ھنیہ کی حکومت نے اسرائیلی اعلان کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں مقدسات کے دفاع کے لئے انتفاضہ شروع کرنے کی کال دی ہے۔ دنیا بھر میں اسرائیلی اعلان کی مذمت کی جا رہی ہے۔ جمعرات کو امریکا نے بھی ان "اشتعال انگیز” کارروائیوں کے بارے میں یہ کہتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ "اس سے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ادھر اسرائیل سے امن معاہدوں کے بعد سفارتی تعلقات قائم کرنے والے عرب ممالک مصر اور اردن نے بھی اسرائیلی فیصلے پر احتجاج کیا ہے۔ واضح رہے کہ قبر راحیل القدس کے قریب بیت لحم شہر کے دروازے اور مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں حرم ابراہیمی کے قریب واقع ہے۔ الخلیل مغربی کنارے کا بڑا شہر ہے اور یہاں پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینی رہائش پذیر ہیں۔ سنہ 1998ء میں اس علاقے سے اسرائیلی فوج کا جزوی طور پر انخلاء ہوا تھا۔ شہر کے وسط میں رہائش پذیر چھے سو یہودی آبادکاروں اور 6500 یہودیوں پر مشتمل نواحی یہودی بستی کریات اربع کی وجہ سے آئے روز اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالات کشیدہ رہتے ہیں۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.