فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی تنظیموں نے حماس کے سات ممبران کو حراست میں لے لیا اور اس کے علاوہ ایک یونیورسٹی کے طالبعلم اور ایک سابق اسیر کو اپنے مرکزی دفتر میں تفتیش کے لئے طلب کرلیا۔
تل کرم شہر میں جنرل انٹیلی جنس سروس نے دو سابق اسیران کو تفتیش کے لئے بلانے کے بعد گرفتار کرلیا جبکہ پریونٹیو سیکیورٹی سروس نے شہر کے شمال میں علار گائوں سے النجاح نیشنل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم کو حراست میں لے لیا۔
پریونٹیوسیکیورٹی سروسز نے جنین سے ایک اور سابق سیاسی اسیر سامر جرادات کو حراست میں لے لیا تھا۔
ملٹری انٹیلی جنس سروس نے بانلس کے ایک گائوں تل سے ایک نوجوان کو حراست میں لے کر اسے تفتیش کے لئے پریونٹیو سیکیورٹی کے حوالے کردیا۔
ادھر طوباس میں جنرل انٹیلی جنس سروس نے ایک سابق سیاسی اسیر کو حراست میں لے لیا اور اس کے علاوہ پریونٹیو سیکیورٹی نے طمون سے النجاح یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو تفتیش کے لئے طلب کرلیا۔
اسی دوران انٹیلی جنس سروس نے سلفیت کے ایک قصبے بدیا میں ایک گھر پر دھاوا بول کر ایک نوجوان کو حراست میں لے لیا۔
فلسطینی پریونٹیو سیکیورٹی نے الخلیل کے شمال میں بیت عمار گائوں سے تعلق رکھنے والے اسلامی جہاد کے ممبر حسن ابو عیاش کو حراست میں لے لیا۔ حسن ابو عیاش اس سے پہلے اسرائیلی جیلوں میں چھ سال قید کاٹ چکے ہیں۔
اسی تنظیم نے رام اللہ میں بیرزیت یونیورسٹی کے ایک طالبعلم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی مگر علاقے کے درجنوں رہائشیوں نے اس کے گھر کو گھیرے میں لے کر اس کو بچا لیا۔
تحریک حماس نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی تنظیموں نے پچھلے ماہ کے مغربی کنارے سے حماس کے 68 ممبر و رہنما گرفتار کئے تھے۔ ان گرفتار شدگان میں 38 سابق اسیر، 11 یونیورسٹی کے طالبعلم، دو صحافی اور ایک امام مسجد شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا ہے کہ سیکیورٹی سروسز نے حماس کے 47 ممبران کو تفتیش کے لئے طلب کیا ہے اور اس کے علاوہ 10 ممبران کی قید میں توسیع کردی ہے حالانکہ ان کی بابت عدالت نے رہائی کے احکام جاری کردئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسی دوران اسرائیلی فوج نے فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں سے رہائی پانے والے تین سابق اسیران کو گرفتار کرلیا ہے جن میں حماس کے رہنما اور ممبران شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
