فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق محکمہ امور اسیران کے زیرانتظام اسٹڈی سینٹر یونٹ کے چیئرمین عبدالناصر فروانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مملکت سعودی عرب کو فلسطینی اسیران کے اہل خانہ اور شہداء کے ورثاء کو اعزازی حج اسکیم میں شامل کرنے پرکوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس لیے فلسطینی محکمہ مذہبی امور سے ہمارا پرزور مطالبہ ہے کہ وہ سعودی عرب کی اعزازی حج اسکیم میں شہداء کے ورثاء اور اسیران کے اہل خانہ کے نام بھی شامل کرے۔
فروانہ کا کہنا ہے کہ سنہ 2010ء، 2011ء اور 2012ء کو اعزازی حج کی اسکیم میں سعودی عرب نے خاص طورپر فلسطینی شہداء اور اسیران کے اہل خانہ کو شامل کیا تھا۔ اعزازی حج اسکیم سے وہ فلسطینی بھی مستفید ہوئے جنہیں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے میں سنہ 2011ء میں اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا گیا تھا۔
