فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پچھلے سات ماہ کے دوران قابض فوج نے سب سے زیادہ غرب اردن سے فلسطینیوں کو حراست میں لیا جہاں سے حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کی تعداد 3508 درج کی گئی۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر بیت المقدس سے 1872 فلسطینی گرفتار کیے گئے۔ مقبوضہ فلسطینی شہروں میں 169، اور غزہ کی پٹی سے 128 فلسطینی گرفتار کیے گئے۔
فلسطینی سماجی کارکن عبدالناصر فروانہ کاکہنا ہے کہ فلسطینی شہریوں کی اندھا دھند گرفتاریاں تحریک انتفاضہ کچلنے کا ایک مکروہ حربہ ہیں۔ فلسطینیوں کی مزاحمت کی شمع بجھانے کے لیے فلسطینی خواتین، بچوں، مردوں، جوانوں، طلباء اور ہرشعبہ ہائے زندگی کے فلسطینی شہریوں کو قید و بند میں ڈالا جاتا ہے۔
فروانہ کا کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف اسرائیلی فلسطینی شہریوں کو خوف زدہ کرنے اور ان پراپنا رعب جمانے کے لیے طاقت کا مکروہ حربہ استعمال کرتا ہے مگر فلسطینی شہریوں کے خلاف صہیونی ریاست کے اس مکروہ حربے کے استعمال کے باوجود فلسطینیوں کی تحریک انتفاضہ کو دبایا نہیں جا سکا ہے۔
