فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فوج نے نئے بریگیڈ اور اس کے اغراض ومقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نئے بریگیڈ کا نام "آپریشنل بریگیڈ” رکھا گیا ہے جس کی کمان بریگیڈیئر کے عہدے کا فوجی افسر کرے گا۔ اسرائیل کے ایک دفاع تجزیہ نگار امیر بوحبوط کا کہنا ہے کہ "آپریشنل بریگیڈ” کی کلیدی ذمہ داریوں میں اس کسی بھی محاذ کے خلاف جنگ کا فیصلہ کرنا ہے۔ یہ بریگیڈ تعین کرے گا کہ آیا کون سا محاذ اسرائیل کے لیے زیادہ خطرناک ہے اور اس کے خلاف کب اور کیسے کارروائی کی جانی ہے۔
آپریشنل بریگیڈ فوج کی جنگی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لیے بھی تجاویز پیش کرے گا۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ بھی مسلسل رابطے اور مشاورت میں رہے گا۔ اسرائیلی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ بریگیڈ دشمن قرار دیے جانے والے اہم افراد اور شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کی بھی منظوری دے گا۔ مثال کے طور پر اگر یہ بریگیڈ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے چیف حسن نصراللہ کو قاتلانہ حملے میں مارنا چاہتا ہے تو فوج کو اس حوالے سے تفصیلی تجاویز پیش کرے گا۔ اسی طرح فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور جماعت کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے کمانڈروں اور کارکنوں کے خلاف کسی بھی آپریشنل کارروائی کے لیے فوج کو تجاویز پیش کرے گا اور فوج ان تجاویز کی روشنی میں کارروائی کرے گی۔
بوحبوط کا کہنا ہے کہ آپریشنل بریگیڈ فوج کو انٹیلی جنس کے شعبے میں بھی معلومات فراہم کرے گا تاکہ کسی بھی وقت فوجی کارروائی کو عملی شکل میں لانے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جاسکیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی، مصر کا جزیرہ سیناء، شام اور لبنان ایسے محاذ ہیں جو آپریشنل بریگیڈ کی توجہ کا اہم مرکز رہیں گے اوران میں سے کسی ایک یا زیادہ محاذوں کے خلاف جنگ کے لیے اس بریگیڈ کی جانب سے تجاویز پیش کی جائیں گی۔
