فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مقبوضہ فلسطینی شہر العفولہ میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے ٹینڈر طلب کیے تھے۔ اس پرفلسطینی شہریوں کی جانب سے پیش کشیں جمع کرائی تھیں۔ جب ٹینڈر کھولے گئے توپتا چلا کہ ٹھیکے حاصل کرنے والے یہودی نہیں بلکہ فلسطینی ہیں۔ اس پر اسرائیلی عدالت میں ٹینڈر کی منسوخی کے لیے درخواست دی گئی جس پرعدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ٹینڈر ہی منسوخ کردیے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی کنیسٹ میں شامل عرب جماعتوں کے اتحاد کے ارکان احمد الطیبی اور اسامہ السعدی نے عرب شہریوں کے ٹھیکے منسوخ کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صہیونی نسل پرستی کا بدترین مظاہرہ قرار دیا ہے۔
دونوں ارکان پارلیمنٹ نے اپنے اپنے بیانات میں العفولہ شہر کے فلسطینی ٹھیکیداروں کے ٹینڈر منسوخ کرنے پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے سے یہ آشکار ہوگیا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں اور عرب شہریوں کے خلاف کتنی نفرت کرتا ہے۔
