رپورٹ کے مطابق الشیخ صبری کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کے شہریوں کے قبلہ اوّل میں داخلے پر پابندیاں اور نمازیوں کی گرفتاریاں دراصل قبلہ اوّل کو یہودیوں اور مسلمانوں میں زمانی اور مکانی اعتبار سے تقسیم کرنے سازشوں کا نقطہ آغاز ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومتیں اس سے قبل بھی مسجد اقصیٰ کے بٹوارے کی سازشیں کرتی رہی ہیں مگرآج تک انہیں اپنی کسی سازش میں کامیاب نہیں مل سکی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اپنی مذموم سازشوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اب مسجد اقصیٰ میں آنے والے نمازی مرد و خواتین کو ہراساں کرنے اور ا نہیں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالنے کی مذموم پالیسی شروع کی ہے۔ اس کا مقصد بھی مسجد اقصیٰ کو یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان زمانی اور مکانی اعتبار سے تقسیم کرنا ہے۔
الشیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج اور پولیس قبلہ اوّل میں نمازیوں کو لانے میں مدد دینے والی ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور بسوں کا بھی تعاقب کررہی ہیں تاکہ قبلہ اوّل میں آنے والے فلسطینیوں کی تعداد کم کرکے یہاں بھی یہودیوں کا غلبہ یقینی بنایا جائے مگر صہیونی دشمن کی یہ سازش بھی کامیاب نہیں ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ قبل اوّل کو اس کی پرانی حالت پر واپس لایا جائے تو اس سے ہماری مراد سنہ 1967 ء کی جنگ سے پہلے والی پوزیشن ہوتی ہے۔
