(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں سماجی اداروں اور انسانی حقوق کے لیے جاری مہمات نےاسرائیلی جیل میں قید فلسطینی رہنما مروان البرغوثی کو سال 2016 ء کے نوبل انعام کے لیے تجویز کرنے کی حمایت میں ایک نئی مہم شروع کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مروان برغوثی کی نوبل امن ایوارڈ کے نامزدگی کی مہم گذشتہ منگل کو رام اللہ میں فلسطینی پارلیمنٹ کے باہر سے شروع ہوئی تھی جس میں بڑی تعداد میں فلسطینی شہریوں، سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے مندوبین کے ساتھ ساتھ سفارت کاروں اور سیاسی رہنماؤں نے بھی حصہ لیا ہے۔ مہم کے آغاز کے وقت منعقدہ تقریب میں تیونس اور جنوبی افریقا کے فلسطینی اتھارٹی کے ہاں متعین سفیر بھی موجود تھے۔ انہوں نے مروان البرغوثی کو رواں سال کےنوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کے مطالبے کی حمایت کی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ فلسطینی سیاست دان کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کا مطالبہ سب سے پہلے ارجنٹائن کے فن کار اور انسانی حقوق کارکن ’ڈولفو پیریز اسکیفل‘ نے کیا۔ وہ خود بھی سنہ 1980 ء میں امن کا نونل انعام حاصل کرچکے ہیں۔ مروان برغوثی کو عالمی امن کا نوبل انعام کا امیدوار قرار دینے کی مہم نہ صرف فلسطین میں جاری ہے بلکہ اس مہم کی باز گشت خلیجی اور افریقا کے عرب ممالک میں بھی سنی گئی ہے۔ تیونس میں انسانی حقوق رابطہ گروپ کے چیئرمین عبدالستار بن موسیٰ کا کہنا ہے کہ وہ البرغوثی کو نوبل انعام کے لیے تجویز کرنے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ نوبل انعام دینے والی کمیٹی اسرائیلی جیل میں پابند سلاسل فلسطینی رہ نما کو نوبل انعام کا مستحق قرار دے۔
اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے رہنما اور سابق وزیر وصفی قبہا کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت بھی مروان البرغوثی کو نوبل انعام کے لیے تجویز کرنے کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی سیاسی رہنما مرون البرغوثی گذشتہ 18 سال سے اسرائیل کی جیلوں میں قید ہیں۔ وہ تحریک فتح کی سینٹرل کمیٹی کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ فلسطینی مجلس قانون ساز کے بھی رکن ہیں اور انہوں نے سنہ 2006 ء میں فلسطین میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اسرائیلی جیل سے الیکشن میں حصہ لیا اور فلسطینی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
