(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ ایام میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیردفاع موشے یعلون نے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے مزید 421 گھروں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق منظوری کے مرحلے سے گذرنے والے کچھ مکانات پہلے سے موجود یہودیوں کالونیوں سے باہر تعمیرکیے جائیں گے۔ اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مکانات کی تعمیر کی منظوری ایک سال کے تعطل کے بعد دی ہے اور یہ تمام کام مکمل راز داری میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کے لیے گھروں کی تعمیر کی منظوری دے کر اسرائیل کے سول ادارے سپریم پلاننگ کونسل کو فلسطینیوں کے علاقوں پر یہودیوں کے لیے تعمیرات کا گرین سگنل دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 54 مکانات جنوبی نابلس میں ’’ھار براکھا‘‘، 17 سلفیت میں ’’ریفافا‘‘، 48 رام اللہ کے قریب قائم ’’گانی مودیعین‘‘، 34 مشرقی بیت لحم میں ’’تقواع‘‘، 69 بیت المقدس میں ’’نوکدیم‘‘، 70 مکانات ’’کرافانا، 76 مکانات’’گیفات زئیو‘‘، 24 ’’رمات میمرا‘‘ اور 98 مکانات رام اللہ کے قریب ’’نیریا‘‘ نامی یہودی کالونی میں تعمیر کئے جائیں گے۔
