(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی سیاسی جماعت عوامی محاذ برآئے آزادی فلسطین کے بلغاریہ میں جلا وطن رہنما عمر النایف کے اندھے قتل کی تحقیقات میں عدم توجہی پر فلسطینی عوام صدرمحمود عباس اور فلسطینی اتھارٹی کے وزیرخارجہ ریاج الماکی کے خلاف سخت برہم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق النایف قتل کے چالیس روز مکمل ہونے پر غزہ کی پٹی میں عوامی محاذ کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں جماعت کے کارکنوں سمیت دوسری جماعتوں کے حامیوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔سرایا گراؤنڈ میں منعقدہ عوامی جلسے کے دوران مظاہرین نے محمد عمر النایف کے قتل کی جامع تحقیقات میں ناکامی پر فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس، فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی بلغاریہ میں فلسطینی اتھارٹی کے وزیر کے پتلے نذرآش کیے گئے۔
اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے عوامی محاذ کے رہنما حسین منصور نے کہا کہ النایف قتل ایک ایسا سنگین جرم ہے جو ہمارے دشمنوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی کا تعاقب بھی کرتا رہے گا۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی بالخصوص صدر محمود عباس اور وزیرخارجہ ریاض المالکی پرالزام عائد کیا کہ وہ النایف قتل کیس کی تحقیقات کے بجائے اسے لاپرواہی سے دیکھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے جماعت میں فلسطینی اتھارٹی کےحوالے سے سخت مایوسی پائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ النایف قتل کیس کی تحقیقات نہ کرکے فلسطینی اتھارٹی نے ان شبہات کو تقویت دی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ النایف کے قتل میں فلسطینی اتھارٹی بھی ملوث ہے۔
حسین منصور کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی النایف کے قتل میں ملوث عناصر کوبے نقاب کرنے کے لیے سار زور مقتول رہنما کے اہل خانہ اور اس کے مقدمہ کی پیروی کرنے والوں کو بلیک میل کرنے میں صرف کررہی ہے۔
خیال رہے کہ کوئی ڈیڑھ ماہ قبل بلغاریہ میں جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے فلسطینی رہنما عمرالنایف کو نامعلوم افراد نےتشدد کرکے قتل کردیا تھا۔ عوامی محاذ نے اپنے رہنما کے قتل میں اسرائیل کے بدنام زمانہ خفیہ ادارے موساد کو قرار دیا تھا۔
