(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکام نے بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے سات خواتین کو قبلہ اوّل کے دفاع کے لیے کوششیں کرنے کی پاداش میں چار سے چھ ماہ تک کے عرصے میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے پرپابندی عائد کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک مقامی فلسطینی خاتون ام ایہاب الجلاد نے میڈیا کو بتایا کہ حال ہی میں اسرائیلی پولیس نے بیت المقدس کی رہائشی سات خواتین کو بیت المقدس میں قائم ’’القشلہ‘‘ پولیس سیںٹر طلب کیا اور انہیں آئندہ چار سے چھ ماہ تک مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے پرپابندی کے نوٹس حوالے کیے گئے۔اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں عایدہ الصیداوی کو 6 ، دلال الھشلمون اور اکرام غزاوی کو 5 ، 5 ، سماح غزاوی اور سناء الرجبی کو 4 ، 4 ماہ کے لیے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
ایہاب جلاد کا کہنا تھا کہ صہیونی پولیس نے اسے بھی پانچ ماہ کے لیے قبلہ اوّل سے دور رہنے کا نوٹس جاری کیا ہے تاہم اس نے اسرائیلی پولیس کا حکم نامہ مسترد کردیا ہے جس کے بعد اسے جبری طورپر قبلہ اوّل سے دور رکھنے کی سازش کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی پولیس کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں آنے والی خواتین کو آئے روز قبلہ اوّل سے دور رکھنے کی مذموم کوششیں کی جاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اسرائیلی پولیس یومیہ 500 فلسطینی طالبات اور دیگر خواتین کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیتے ہیں۔
