رپورٹ کے مطابق عوفر جیل سےملنے والی اطلاعات میں بتایا گیاہے کہ حماس کے جن پندرہ اسیران نے بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک شکری خواجا کی قید تنہائی کی سزا ختم کرتے ہوئے انہیں دوسرے اسیران کے ساتھ ملا نہیں دیا جاتا ہے۔
ادھر عوفر جیل کی انتظامیہ نے شکری الخواجا کے ساتھ یکجہتی کے طورپر بھوک ہڑتال کرنے والے حماس کے کارکنوں کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے بھوک ہڑتال ختم نہ کی انہیں بھی الگ الگ کوٹھڑیوں میں قید تنہائی میں ڈال دیا جائے گا تاہم قیدیوں نے صہیونی جیلروں کی دھمکیاں مسترد کردی ہیں۔
خیال رہے کہ اسیر شکری خواجا گذشتہ 16 برس سے اسرائیل جیلوں میں وقفے سے وقفے سے قید کاٹتے چلے آر ہے ہیں۔ انہیں صہیونی حکام نے 2 فروری 2014 ء کو حراست میں لیا اور چار ماہ کی انتظامی قید میں ڈال دیا گیا۔ بعد ازاں اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل کی ہدایت پر انہیں حماس سے تعلق کے الزام میں 15 سال قید کی سزا کا حکم دیا گیا۔ دوران حراست انہیں ہولناک تشدد کا بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے عوفر جیل میں اپنی بلا جواز قید تنہائی کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔
