(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی شہریوں کی مزاحمتی کارروائیوں سے خوف زدہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے سرکردہ فلسطینی بزرگ رہنما اور قبلہ اوّل دفاع کے لیے سرگرم اسلامی تحریک کے سرباہ الشیخ رائد صلاح کے خلاف دھمکی آمیز بیان بازی شروع کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کابینہ کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے نیتن یاھو نے کہا کہ فلسطین کی موجودہ کشیدہ صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے الشیخ رائد صلاح اسرائیل کےخلاف فلسطینیوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے وزیرانصاف کو حکم دیا کہ وہ الشیخ رائد صلاح کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالیں تاکہ ان کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف ہونے والی اشتعال انگیزی کو روکا جاسکے۔رپورٹ میں بتایا ہے کہ الشیخ رائد صلاح بیت المقدس کی موجودہ صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہودیوں کے ایسٹر تہوار کی تقریبات کے موقع پر بدنظمی اور بدامنی پھیلانے کی سازش کررہے ہیں۔ اسرائیل کے سیکیورٹی ادارے الشیخ رائد صلاح کو روکیں۔
نیتن یاھوں نے قبلہ اوّل کے دفاع کے لیے سرگرم بزرگ فلسطینی رہنما الشیخ رائد صلاح کو چلتا پھرتا بم قرار دیا اور کہا کہ الشیخ رائد صلاح جیسے لوگ اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ الشیخ رائد صلاح جیسے لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے۔ انہیں آزادانہ چلنے پھرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس لیے میں وزارت قانون وانصاف سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ الشیخ رائد صلاح کو بیت المقدس سے نکال باہر کرے یا انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈالے۔
خیال رہے کہ الشیخ رائد صلاح اور ان کی جماعت اسلامی تحریک اسرائیلی حکومتوں کے مسلسل عتاب کا شکار ہے۔ پچھلے سال اسرائیلی حکومت نے اسلامی تحریک کی شمالی شاخ پر مسجدا قصیٰ کے دفاع کی حمایت کی پاداش میں پابندی عاید کردی تھی۔
