(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے فوجی پراسیکیوٹر نے ایک سال قبل مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں ایک سترہ سالہ فلسطینی لڑکے کو گولیاں مار کر شہید کرنے میں ملوث ایک سینیر فوجی افسر کے خلاف جاری تحقیقات روک دی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیاہے کہ بریگیڈیئر یسرائیل شومیر کے خلاف 17 سالہ فلسطینی لڑکے محمد علی الکسبہ کے قتل میں ملوث ہونے کی تحقیقات کا سلسلہ روک دیا گیا ہے تاہم اس کی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔خیال رہے کہ پچھلے سال اسرائیل کی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’’بتسلیم‘‘ نے ایک ویڈیو فوٹیج نشر کی تھی جس میں اسرائیلی فوجی افسر کو اپنی گاڑی پر سنگ باری کرنے والے ایک فلسطینی لڑکے کو گولیاں مار کر شہید کرتے دکھایا گیا تھا۔ بعد ازاں فوج نے اس فوٹیج کی تحقیقات کی تھیں اور ’’بنجمن بریگیڈ‘‘ کے سربراہ بریگیڈیئر یسرائیل شومیر کو فلسطینی بچے کے قتل میں ملوث قرار دے کر اس کے خلاف تحقیقاتی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
فوٹیج میں دکھایا گیا تھا کہ اسرائیلی فوجی افسر ایک فلسطینی لڑکے کو اس وقت گولیاں مار کر شدید زخمی کردیتا ہے جب اس نے فوجی افسر کی گاڑی پر پتھراؤ کیا تھا۔ یہ واقعہ تین جولائی کو رام اللہ اور بیت المقدس کے درمیان قلندیہ چوکی کے قریب پیش آیا تھا۔ بعد ازاں زخمی لڑکا اسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔
