(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی پولیس نے کل ہفتے کے روز بیت المقدس کی مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے آئی ایک فلسطینی معمر خاتون کو حراست میں لیا تاہم بعد ازاں خود کو مجسٹریٹ عدالت میں پیش کرنے کی شرط پر رہا کردیا۔
رپورٹ کے مطابق 63 سالہ زینت عویضہ المعروفہ ام ایھاب کو صہیونی فوجیوں نے مشرقی بیت المقدس میں واقع اس کے گھر سے حراست میں لیا۔ کئی گھنٹے تک اسے حراست میں رکھنے کے بعد اس شرط پر رہا کردیا کہ وہ اگلے روز خود ہی بیت المقدس میں قائم اسرائیل کی مجسٹریٹ عدالت میں خود کو پیش کرے۔ اس کے علاوہ عدالت میں پیشی کے بعد وہ بیت المقدس میں پولیس کے تفتیشی مرکز ’’المسکوبیہ‘‘ میں تفتیش کے لیے بھی پیش تاکہ مزید پوچھ تاچھ کی جاسکے۔فلسطینی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے ام ایہاب پر ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ تعلق کا الزام عائد کیا ہے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا اس کا تعلق کس تنظیم سے ہے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے ہفتے کو علی الصباح مشرقی بیت المقدس میں العیساویہ کے مقام پر واقع زینت عویضہ کے مکان پر چھاپہ مارا اور معمر خاتون کو گھر سے حراست میں لینے کے بعد مسکوبیہ حراستی مرکز منتقل کردیا تھا۔ صہیونی حکام نے آج اتوار کو اسے دوبارہ مسکوبیہ پولیس سینٹر میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ معمر فلسطینی خاتون قبلہ اوّل سے گہرا لگاؤ اور عقیدت رکھتی ہے اور اکثر نمازوں کی ادائیگی کے لیے گھر سے چل کر مسجد اقصیٰ میں حاضری دیتی رہتی ہے۔ اس کی قبلہ اوّل میں آمد فلسطینی خواتین بالخصوص نواجوانوں کے لیے حوصلے کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونی حکام ایک سازش کے تحت اسے مسجد اقصیٰ سے دور رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔
