(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی فوج کے درمیان خفیہ مذاکرات کے تازہ انکشاف کے بعد فلسطینی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی سے نام نہاد مذاکرات کا ڈھونگ فوری طورپر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی سیاسی جماعت عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے مرکزی رہنما زاھر الششتری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے عہدیداروں کا اسرائیلی فوج کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا انکشاف اس بات کا ثبوت ہے کہ رام اللہ اتھارٹی خفیہ طورپر دشمن کے ساتھ مل کر قوم کے خلاف سازش کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف صدر محمود عباس پوری دنیا میں یہ ڈھنڈروا پیٹتے جا رہے ہیں کہ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ہرطرح کی بات چیت ختم کردی ہے اور دوسری طرف فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی ادارے اسرائیلی دشمن کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔
زاھر الششتری کا کہنا تھا کہ خفیہ مذاکرات دراصل دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے اوردشمن کی شرائط قبول کرنے کے مترادف ہیں۔ خفیہ مذاکرات کے ڈرامے نے پوری فلسطینی قوم کو فلسطینی اتھارٹی کے طرز عمل سے سخت مایوس کیا ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ دو طرفہ مذاکرات میں غرب اردن میں فلسطینی سیکیورٹی اداروں کو بعض مقامات پر زیادہ اختیارات دینے اور اسرائیلی فوجیوں کی تعداد کم کرنے پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
فلسطین کی سرکردہ مذہبی اور سیاسی جماعتوں بالخصوص اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ ، اسلامی جہاد اور عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین اسرائیل سے مذاکرات کا ڈھونگ مسترد کرچکی ہیں۔
