(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل سرکردہ فلسطینی شخصیات میں خاتون رکن پارلیمنٹ خالد جرار بھی شامل ہیں جنہیں اسرائیلی قیدخانوں میں پابند سلاسل ہوئے ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔ باون سالہ خالدہ کو صہیونی فورسز نے گذشتہ برس دو اپریل گرفتار کیا تھا۔
فلسطین میں اسیران کے امور کی کوریج کرنے والے میڈیا سینٹر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی قانون سازکونسل کی خاتون رکن خالدہ جرار کو اسرائیلی جیل میں اسیری کا دوسرا سال شروع ہوگیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ خاتون رکن پارلیمنٹ کو صہیونی فورسز نے 2 اپریل 2015 ء کو رام اللہ میں ان کے گھر سے حراست میں لیا تھا۔
بعد ازاں صہیونی عدالت نے انہیں چھ ماہ کی انتظامی حراست کی سزا سنائی تھی، کچھ عرصے بعد ان کی حراست میں ایک ماہ کی کمی کردی تھی مگراسرائیل کے ملٹری پراسیکیوٹر کے اعتراض پر انہیں رہا کرنے کے بجائے غیرمعینہ مدت تک کے لیے جیل میں رکھنے کی سفارش کی تھی۔ اسرائیلی عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل کی سفارش مان لی تھی۔
بعد ازں اسرائیل کی عوفر میں قائم فوجی عدالت نے خالدہ جرار کو 15 ماہ قید کی سزا کا حکم دیا تھا۔ ان میں سے وہ 12 ماہ قید کاٹ چکی ہیں۔ اسرائیلی پراسیکیوٹر کاکہنا تھا کہ ان کے پاس خالدہ جرار کے خلاف فرد جرم کے لیے ٹھوس شواہد موجود ہیں مگر وہ عدالت میں کسی قسم کے شواہد پیش نہیں کرسکے ہیں۔
